قومی معیشت کو بہتر بنانے اور ملک کے سماجی اور اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں کی ضرورت ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی 14ویں اچیومنٹ ریکگنیشن تقریب سے خطاب

ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی معیشت کو بہتر بنانے اور ملک کے سماجی اور اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتکاروں اور تاجروں سمیت پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آکر معاشرے کے پسماندہ طبقے کی حالت کو بہتر بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایوان صدر میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کی 14ویں اچیومنٹ ریکگنیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے صنعتکاروں اور معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ آگے آکر ملک کے لئے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے کمزور لوگوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ انہیں بھی یکساں مواقع میسر آسکیں۔ صدر مملکت نے سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے سنگین تشویش کا معاملہ سمجھتے ہیں، تاجروں سمیت صاحب ثروت افراد سکولوں سے باہر تقریباً 28 ملین بچوں کے سنگین مسئلہ کو حل کرنے میں مدد فراہم کریں، سکول سے باہر بچوں کو تعلیم دی جانی چاہیے اور انہیں ملک کے مستقبل کے لیے ہنر سکھانا چاہیے،

اس مقصد کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انسانی وسائل کی بڑی صلاحیت پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، بجائے اس کے کہ نوجوانوں کو افرادی قوت کے طور پر بیرون ملک برآمد کیا جائے، انہیں مقامی طور پر مناسب تعلیم اور ہنر فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہمیں ایک قوم کے طور پر اقتصادی اور سماجی شعبوں میں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے اور ملک کو مضبوط بنانا چاہیے۔ صدر مملکت نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے قیام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرکے اور تیزی سے ٹریکنگ کرکے معیشت کو مستحکم اور ملک میں کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید فروغ دیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف حالیہ کریک ڈائون کے مقامی صنعت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، صدر مملکت نے اس طرح کی پالیسیوں کے تسلسل پر زور دیا۔ انہوں نے گھریلو اور زرعی استعمال میں پانی کی قیمتوں کے تعین کی اہمیت کا بھی حوالہ دیا تاکہ پانی کے ضیاع پر قابو پایا جاسکے۔ صدر مملکت نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے سمیت اہل افراد اور کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں شفاف انفرادی ادائیگی کے نظام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے صنعتکاروں، تاجروں اور برآمد کنندگان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی شکایات وفاقی ٹیکس محتسب آفس میں درج کرانے کی سہولت سے استفادہ کریں جسے ساٹھ دن کی مختصر مدت میں معاملات کا فیصلہ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے غزہ کی سنگین صورتحال کا ذکر کیا اور اسرائیلی جارحیت کو بربریت اور ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جاری تنازعہ میں اب تک 10 ہزار کے قریب فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جن میں سے اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو مفادات کی بجائے اخلاقیات پر مبنی فیصلے کرنے چاہئے۔ قبل ازیں صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کا شف انور نے اپنے خطاب میں مہنگائی، ہنر مند افرادی قوت کی کمی، ڈالر کے مقابلے میں مقامی ٹینڈر کے کمزور ہونے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، برآمدات میں اضافے اور مقامی سطح پر غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے جیسے مسائل کے حل کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مختلف ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کھولنے کا خیر مقدم کرے گا۔ اس موقع پر صدر مملکت نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے صنعت کاروں، تاجروں اور برآمد کنندگان کو ملکی معیشت میں ان کے تعاون کے اعتراف میں انہیں شیلڈز دیں۔