محکمہ ان لینڈ ریونیو آزاد کشمیر نے پہلی مرتبہ کمپیوٹر بیلیٹنگ کے ذریعے آڈٹ کیلئے ٹیکس کیس کا چنائو کیا

میرپور (آزاد کشمیر) ۔ 27 اپریل (اے پی پی):محکمہ ان لینڈ ریونیو آزاد کشمیر نے پہلی مرتبہ کمپیوٹر بیلیٹنگ کے ذریعے آڈٹ کیلئے ٹیکس کیس کا چنائو کیا۔چیف سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر و چیئر مین سنٹر ل بورڈ آف ریونیو شکیل قادر خان نے جدید ترین کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت آڈ ٹ سلیکشن کے طریقہ کار کا آغاز کیا۔ محکمہ ان لینڈ ریونیو نے آزاد کشمیر میں جدید ترین کمپیوٹرائزڈ نظام پر مشتمل آڈٹ سلیکشن کے طریقہ کار کو متعارف کروا دیا۔

محکمہ ان لینڈ ریونیو آزاد کشمیر کے مطابق آزاد جموں وکشمیر سنٹرل بورڈ آف ریونیو کو انکم ٹیکس آرڈیننس مجریہ 2001ء کی دفعہ 214Cکے تحت اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کمپیوٹر بیلٹنگ کے ذریعے آزاد کشمیر کے رجسٹرڈ ٹیکس گزاران کے کیس ہا بغرض آڈٹ منتخب کر سکتا ہے۔ پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی نگرانی میں سال 2010ء سے آڈٹ کیسز کی کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں آٹو میٹڈ سسٹم نہ ہونے کے باعث آڈٹ سلیکشن کا نظام مینوئل تھا۔ اب چونکہ آزاد کشمیر میں محکمہ ان لینڈ ریوینیو کے ٹیکس نظام کوجدیدخطوط کے مطابق استوار کیا جا رہا ہے تو مطابقاً محکمانہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کمپیوٹر بیلیٹنگ کے ذریعے صاف شفاف طریقہ کار کے مطابق میرٹ پہ آڈٹ کیلئے ٹیکس کیس selectہوئیہیں، جو کہ محکمانہ تاریخ میں ایک اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

کمشنر ان لینڈ ریوینیو و سربراہ محکمہ ان لینڈ ریوینیو سردار ظفر محمود خان نے مزید آگاہ کیا کہ آڈٹ بیلیٹنگ کے ذریعے سال 2020 کے 29763ٹیکس گوشوارہ جات میں سے آڈٹ پالیسی کے مطابق پورے آزاد کشمیربھرسے2083ٹیکس کیسز آڈٹ کیلئے selectہوئے جن کو آڈ ٹ پالیس کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ پریس ریلیز میں کمشنر ان لینڈ ریوینیو کی جانب سے مزید واضح کیا گیا ہے کہ Auto Ballottingکے تحت آڈٹ سلیکشن کے طریقہ کار میں شفافیت آئے گی۔اب چونکہ محکمانہ ان لینڈ ریوینیو کی جانب سے computerized ballottingکے تحت آڈ ٹ سلیکشن کے طریقہ کارکو نافذ کر دیا گیا ہے جو خالصتاً میرٹ اور صاف و شفاف نظام پر مبنی ہے۔

چیف سیکرٹری آزاد حکومت شکیل قادر خان نے بطور چیئرمین آ زاد جموں وکشمیر سنٹرل بورڈ آف ریوینیو کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ بھی کیا کہ آزاد کشمیر میں ٹیکس نظام کو حکومت پاکستان کے طریقہ کار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور ٹیکس گزاران کی سہولت اور ریاست کو مالی طور پر مستحکم بنانے کیلئے بتدریج ٹھوس اقدامات بھی عمل میں لائے جا رہے ہیں اور ریاست کے عوام جلد ہی سہل ٹیکس نظام کے ثمرات سے مستفید ہو پائیں گے۔