محکمہ زراعت پنجاب کی ستمبرکے دوران کپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے سفارشات جاری

Cotton
Cotton

فیصل آباد۔ 12 ستمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نےستمبرکے دوران کپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے سفارشات جاری کردیں۔ نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں کپاس کی فصل اہم مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے اور4 سے5 ٹینڈوں کے بننے کا عمل جاری ہے لہٰذا کپاس کے کاشتکار اس مرحلہ پر فصل کو پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں اور آبپاشی کا عمل ہمیشہ واٹر سکاؤٹنگ کے بعد کریں۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل کو آبپاشی ترجیحاً شام کے وقت اورہفتے میں 2 بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں تاہم اگر کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو تو محکمہ زراعت کے مقامی عملے کے مشورے سے زہروں کا سپرے کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہی گروپ کی زہروں کا سپرے بار بار نہ کریں کیونکہ اس سے کیڑوں کی متعلقہ زہروں کے خلاف قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے نیز کاشتکاربارش کی صورت میں زائدپانی کی نکاسی کا اہتمام کریں اور اس مقصد کے لیے کھیت کے لمبے رخ ایک گہری کھائی کھود لیں۔انہوں نے کہا کہ بارشوں کے بعد اگر کپاس کے پتے پیلے او ر سرخ ہو جائیں تو 2 کلوگرام یوریا اور300 گرام میگنیشیم سلفیٹ100 لیٹر پانی میں حل کر کے 10 سے12 دن کے وقفے سے لگاتار 2 سپرے کریں اور جب کھیت سے بارش کا پانی سوکھ جائے تو ایک بوری یوریا فی ایکڑ متبادل کھادوں کا استعمال کریں۔

اس کے علاوہ کاشتکار گلابی سنڈی کے حملے سے بچنے کے لیے جنسی پھندوں کا استعمال کریں۔ ترجمان نے کہا کہ کپاس کی غلط طریقہ سے چنائی کی وجہ سے کپاس کا معیار متاثر ہوتا ہے لہٰذا آلودگی سے پاک کپاس کے حصول کے لیے کپاس کی چنائی احتیاط سے کریں کیونکہ آلودگی سے پاک کپاس کے نرخ زیادہ ملتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صاف اور معیاری کپاس کے حصول کے لیے محکمہ زراعت کی سفارشات اور احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھیں نیزکپاس کی چنائی ہمیشہ اس وقت کریں جب کپاس سے شبنم کی نمی بالکل ختم ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار چنائی اس وقت شروع کریں جب تقریباً 50 فیصد سے زیادہ ٹینڈے کھل چکے ہوں اورچنائی ہمیشہ پودے کے نچلے حصے کے کھلے ہو ئے ٹینڈوں سے شروع کی جائے اور بتدریج اوپر کو چنائی کرتے جائیں تاکہ نیچے کے کھلے ہو ئے ٹینڈے خشک پتوں، چھڑیوں یا کسی دوسری چیز کے گرنے سے محفوظ رہیں۔انہوں نے کہا کہ چنائی کرنے والی خواتین سر پر سفید سوتی کپڑے سے بالوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر چنائی کریں تاکہ سر کے بال پھٹی میں شامل ہو کر روئی کی کوالٹی خراب نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ چنائی کے وقت ٹینڈے پودوں سے نہیں توڑنے چاہئیں بلکہ ان میں سے کپاس چن لی جائے اور ٹینڈوں میں کپاس بالکل نہیں رہنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی چنائی کا درمیانی وقفہ 15سے 20 دن رکھیں اوربارشوں و نقصان دہ کیڑوں سے متاثرہ کپاس اور آخری چنائی کے کچے ٹینڈوں سے حاصل ہونے والی پھٹی کو علیحدہ رکھیں اور اس پھٹی کو علیحدہ ہی فروخت کریں۔انہوں نے کہا کہ گلابی سنڈی سے متاثرہ ٹینڈوں کی کپاس کی چنائی بالکل علیحدہ کی جائے اور اسے علیحدہ ہی رکھا جائے۔