معیشت کی دستاویز بندی اور حکومتی لین دین ڈیجیٹل بنانے سے شفافیت کو فروغ حاصل ہوگا، صدر مملکت ڈاکٹر کا آڈیٹر جنرل آفس کا دورہ

معیشت کی دستاویز بندی اور حکومتی لین دین ڈیجیٹل بنانے سے شفافیت کو فروغ حاصل ہوگا، صدر مملکت ڈاکٹر کا آڈیٹر جنرل آفس کا دورہ

اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے کردار ، سرگرمیوں اور آڈٹ نشاندہیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کی دستاویز بندی اور حکومتی لین دین ڈیجیٹل بنانے سے شفافیت کو فروغ حاصل ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان آفس کے دورہ کے موقع پر کیا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان محمد اجمل گوندل نے صدر مملکت کو ادارے کے کردار اور کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، قومی خزانے کے درست استعمال اور شفافیت کے فروغ کیلئے پارلیمانی نگرانی ناگزیر ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ حکومتی مالی انتظام کے نظام کو مستحکم کرنے اور خامیوں کی نشاندہی میں آڈیٹرجنرل کا کردار اہمیت کا حامل ہے، حکومتی اخراجات میں شفافیت اور مالیاتی احتساب مضبوط بنانے کیلئے قانونی فریم ورک میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے صدر مملکت کو مالیاتی احتساب کے عمل میں ادارے کے کردار کے بارے بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا ادارہ آڈٹ عمل مزید موثر بنانے کیلئے اقدامات لے رہا ہے، آڈیٹر جنرل نے مالی سال 2022-23 میں 95 فیصد کمپلائنس آڈٹ مکمل کیے، آڈٹ اور اکائونٹنگ عمل میں بہتری سے شفافیت ، احتساب اور گڈ گورننس کو فروغ حاصل ہوگا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو آڈٹ عمل میں شامل کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں، آڈٹ کے عمل کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم فعال کر دیا گیا۔ اکائونٹنگ عمل کی ڈیجیٹلائزیشن سے پنشنرز کو موثر انداز میں رقوم کی ادائیگی میں مدد ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن اور ادارے کی کارکردگی میں اضافے سے شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان حکومتِ پاکستان سمیت مختلف اداروں کو آڈٹ کی خدمات فراہم کررہا ہے۔ صدر مملکت نے حکومتی شعبے میں شفافیت اور پارلیمانی نگرانی کے نظام میں مدد میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے کردار کو سراہا۔