ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام کے لئے سیاسی ،مذہبی جماعتوں کے مابین میثاق پاکستان وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، حافظ طاہر محمود اشرفی

Hafiz Tahir Mahmood Ashrafi
Hafiz Tahir Mahmood Ashrafi

اسلام آباد۔21فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و چئیرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے سیاسی و مذہبی جماعتوں سے میثاق پاکستان کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے اور اسے بحرانی صورتحال سے نکالنے کیلئے سب کو مل کر جد و جہد کرنی ہوگی۔

افواج پاکستان، عدلیہ، تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک میز پر بیٹھیں اور ایک میثاق اس مملکت خداداد پاکستان کیلئے کریں اور اس کا نام میثاق پاکستان ہو، جس میں یہ واضح ہو کہ ملک کو آئندہ 25 سال کے لئے کس طرح چلانا ہے۔ جس میں پاکستان کو در پیش معاشی مسائل کا حل ہو جس میں ملک میں ایک دوسرے کیلئے پائی جانے والی انتہا پسندی و عدم برداشت کے خاتمے کا موثر حل موجود ہو۔

پاکستان علماءکونسل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ہونے والے میثاق پاکستان علماءومشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی کنونشن میں مختلف مکاتب فکر کے قائدین شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں، انتخابی نتائج کے حوالے سے تنازعات حل کرنے کیلئے آئین و قانون کا راستہ اختیار کیا جائے،الیکشن کمیشن اور عدلیہ اس حوالہ سے غیر جانبدار انہ کردار ادا کریں۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ معاشی استحکام سیاسی استحام سے جڑا ہے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا تب تک ہم معاشی استحکام کی جانب کامیابی سے نہیں بڑھ سکتے۔انہوں نےکہا کہ پاکستان کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے کسی بھی جمہوری معاشرے میں عام انتخابات کا انعقاد ملک کی باگ دوڑ عوامی مینڈیٹ کی حامل سیاسی قیادت کے حوالے کرتا ہوتا ہے تا کہ ملک کو در پیش مسائل کے حل کیلئے کام کرے لیکن بد قسمتی سے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کے نتائج پر تمام سیاسی جماعتیں معترض ہیں۔ انتخابی نتائج کے حوالے سے جن جماعتوں کو شکوک و شبہات ہیں انہیں آئین و قانون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور الیکشن کمیشن کو فوری طور پر ان کے تحفظات دور کرنے چاہیے ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنا کسی بھی صورت درست نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن اور عدلیہ انتخابی تنازعات کے حل کیلئے غیر جانبدارانہ کردار ادا کریں جس سے تمام جماعتوں میں اطمینان پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ میثاق پاکستان میں ملک کی خارجہ داخلہ پالیسی کو بھی واضح کیا جائے،مسائل غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے نوجوان نسل کو انتہا پسندی، دہشت گردی، شدت پسندی سے دور کرنے اور ان کی اصلاح کیلئے پلان تشکیل دیاجائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان لا الہ الا للّٰہ کے نام پر قائم ہوا تھا۔ پاکستان کے قیام کا مقصد ملک میں خلافت راشدہ کے نظام کا نفاذ تھا جو کہ عدل امن اور بھائی چارے کا نظام ہے۔ قائد اعظم نے بھی قیام پاکستان کے وقت واضح کردیا تھا کہ ہمارا آئین اور دستور ساڑھے تیرہ سو سال پہلے آ چکا ہے ۔ قرارداد مقاصد میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا واضح نظام موجود ہے۔ بدقسمتی سے 76 سال سے پاکستان اپنی اصل اساس اور بنیاد کی طرف نہیں پہنچ سکا۔ پاکستا کا آئین قرآن وسنت کے تابع ہے۔ پاکستان کو اسلامی اور فلاحی ریاست بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت پر ہمارا موقف واضح ہے ہماری روح و خون میں عقیدہ ختم نبوت شامل ہے۔ قانون اور دستور کے اندر جو شرعی ایکٹ میں ترمیم ہمیں ہر گز قبول نہیں ۔ عقیدہ ختم نبوت کی چوکیداری ہمارا ایمان ہے۔ پاکستان کے دستور آئین میں واضح طور پر ہے کہ قادیانی اپنی قادیانیت کی تبلیغ واشاعت نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ محراب و منبر سےلے کر ذرائع ابلاغ تعلیمی ادارے سب کو اس طرف سوچنا ہوگا کہ قیام پاکستان کا مقصد حاصل ہوا ہے کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے قیام سے دوست ممالک نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاری احسن طریقے سے ہو سکے۔انہوں نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں امن وامان کو برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج اور ملک کے سلامتی کے اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ پاکستان کی فوج ملک کے سلامتی کے اداروں اور پولیس نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں امن وامان کے قیام کیلئے جو کردارادا کیا ہے وہ قابل تحسین اور قابل فخر ہے اور اس پر پاکستان کے علماءو مشائخ انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔