موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے غذائی تحفظ اور پائیدار زراعت کلیدی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے، ڈاکٹر مسعود جے المری

University of Agriculture Faisalabad
University of Agriculture Faisalabad

فیصل آباد۔ 22 نومبر (اے پی پی):اسلامک آرگنائزیشن برائے فوڈ سیکورٹی (آئی او ایف ایس) کے چیئرمین ایگزیکٹو بورڈ اور نگران ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مسعود جے المری نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے غذائی تحفظ اور پائیدار زراعت کلیدی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ جس کا مقابلہ کرنے کے لیے رکن ممالک کو مربوط کاوشیں عمل میں لانا ہونگی تاکہ بھوک کے خاتمے اور زرعی ترقی کے اہداف کو حاصل کیا جاسکے۔

انہوں نے ڈائریکٹر پروگرام آئی او ایف ایس پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کے ہمراہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ کیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں، ڈینز اور ڈائریکٹرز سے سنڈیکیٹ روم میں ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی ممالک میں غذائی خود کفالت کے حصول کیلئے مربوط کاوشیں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی او ایف ایس کا اسٹریٹجک مشن رکن ممالک میں پائیدار غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ رکن ممالک کو پائیدار زراعت، دیہی ترقی، غذائی تحفظ، ماحولیاتی مسائل اور بائیو ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں پر مہارت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، جنگلات کی کٹائی اور زمینی زرخیزی میں کمی سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی نے سویابین، گندم، گنا، مکئی اور دیگر فصلوں کی زیادہ پیداوار کی حامل اقسام تیار کی ہیں جس سے غذائی خود کفالت حاصل کرنے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہو رہی ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے نئی اقسام متعارف کرانا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ زراعت کا شعبہ غربت کے خاتمے اور زرمبادلہ کمانے کے لیے ملک کے لیے لائف لائن ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ او آئی سی ممالک کی 1.9 بلین آبادی میں خوراک کی درآمد 65 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں ایک خصوصی فوڈ سیکیورٹی ادارے کا اعلان 8 جون 2011 کو عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے 7ویں اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی ایک وفد یونیورسٹی میں ہائبرڈ گندم کی فیلڈ کا دورہ کرے گا۔

پرو وائس چانسلر/ڈین زراعت پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور خاں، ڈینز پروفیسر ڈاکٹر اعجاز بھٹی، پروفیسر ڈاکٹر رانا اعظم، ڈاکٹر خالد مشتاق، ڈاکٹر قمر بلال، ڈاکٹر فرزانہ رضوی، ڈائریکٹر ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر جعفر جسکانی، پرنسپل آفیسرپی آر پی پروفیسر ڈاکٹر جلال عارف، ڈائریکٹرجنرل نیفسیٹ پروفیسر ڈاکٹر عمران پاشا، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکیجز پروفیسر ڈاکٹر محمد ثاقب، مرکز برائے اعلیٰ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر سلطان حبیب اللہ، ڈائریکٹر اینیمل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ریاض ورک، ڈائریکٹر بزنس مینجمنٹ ڈاکٹر عبدالغفور، ڈائریکٹر گریجویٹ سٹڈیز ڈاکٹر خالد بشیر، پروفیسر ڈاکٹر آصف کامران، ڈاکٹر فرزانہ مقبول، ڈاکٹر ظہور احمد، ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ ڈاکٹر ندیم اکبر، ڈاکٹر ثاقب اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے مختلف لیبز کا بھی دورہ کیا۔