نوازشریف کی وطن واپسی میں ڈیل اور مسلم لیگ (ن) کے لئے نرم گوشہ کا تاثر درست نہیں، معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات کے دوررس اثرات ہوں گے ،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ

Caretaker Prime Minister
Caretaker Prime Minister

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی): نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی وطن واپسی میں ڈیل کے تاثر کو یکسرمسترد کرتےہوئے کہا ہے

کہ نگران حکومت کسی ڈیل کا حصہ کیوں کر ہوگی، نواز شریف عدالتی فیصلے کے تحت ملک سے باہر گئے اور انہیں وطن واپسی پر کچھ قانونی سوالات کا سامناکرنا ہوگا، نگران حکومت مسلم لیگ(ن) کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم’’ وی نیوز‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں کیا۔

جب وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ نواز شریف کسی ڈیل کے تحت واپس آ رہے ہیں؟ تو وزیر اعظم نے جواب دیاکہ ایک نگران حکومت اس طرح کی کسی ڈیل کا کیا حصہ ہو گی اور کیوں ہو گی۔نواز شریف جب ایک عدالتی فیصلے کے تحت ملک سے باہر گئے تو اس وقت عمران خان کی حکومت تھی، اس وقت نہ تو اس نگران سیٹ اپ اور نہ ہی پی ڈی ایم جماعتوں کی حکومت تھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو وطن واپسی پر کچھ قانونی سوالات کا سامنا کرنا ہوگا اور ان سوالات کے جوابات بھی قانونی ہیں۔انوارالحق کاکڑنےمسلم لیگ نواز کے لیے نرم گوشہ رکھنے کے تاثر کو بھی مکمل طور پر مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ نگراں وزیر اعظم بننے سے قبل میری مریم نواز ، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان، آصف زرداری اور 9 مئی کےواقعات سے قبل عمران خان سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی بیوروکریٹ نہیں بلکہ ایک رکن پارلیمنٹ تھا اور وہاں سے مستعفی ہو کر میں نے یہ منصب سنبھالا ہے اور کون سی سیاسی جماعت یا کون سے لوگ ہوں گے جو مجھ سے ملاقاتیں نہیں کرتے ہوں گے لہٰذا کسی ایک ملاقات کو ایک جماعت سے جوڑ دینا انصاف پر مبنی نہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک ترقی پذیر جمہوریت ہے جہاں آئینی انصرام موجود ہے اور یہاں عدالتی طریقہ کار کی ایک اپنی اہمیت ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان سمیت کسی بھی سیاسی شخصیت کے بارے میں جو بھی کوئی فیصلہ ہو گا وہ عدالتی عمل کے نتیجے میں ہو گا۔ اگر عدالتی عمل کے نتیجے میں عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملتی ہے تو وہ حصہ لیں گے لیکن اگر نہیں تو میں کیسے اس پابندی کو ختم کر سکتا ہوں۔

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ان کی الیکشن کمیشن آف پاکستان سے جتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں ان کے مطابق انتخابات کی تیاریاں مکمل ہیں اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے لیکن انتخابات میں سکیورٹی کے حوالے سےخدشات دور کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ الیکشن کمیشن جنوری میں انتخابات کے حوالے سے اپنے انتظامات کافی حد تک مکمل کر چکا ہے ، حلقہ بندیوں سمیت دیگر معاملات پر کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔

سکیورٹی اور پولنگ بوتھس کے حوالے سے بھی انتظامات حتمی مراحل میں ہیں اور انہیں کوئی شبہ نہیں کہ جس تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے گا اس پر انتخابات ہو جائیں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ بعض سیاسی رہنما کہہ رہے ہیں کہ سردیوں میں برف باری کی وجہ سے ووٹنگ کی شرح کم ہو سکتی ہے تو وزیراعظم نے کہا کہ ووٹنگ کی شرح کم نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہوں۔

انہوں نے کہا کہ موسم ایک عامل ضرور ہوتا ہے لیکن ملک کے زیادہ آبادی والے خطوں سندھ اور پنجاب میں موسم کے اثرات اس نوعیت کے نہیں ہوتے ہاں البتہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں موسم کے تھوڑے اثرات ہو سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن آئین میں متعین اپنی حدود کے حساب سے ہی کوئی فیصلہ کرے گا۔غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سےایک سوال کے جواب میں نگران وزیر اعظم کاکڑ نے کہا کہ ہم کسی بھی قسم کے مہاجرین کو نہیں نکال رہے بلکہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو نکال رہے ہیں ۔پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں آر ایس ایس کی سوچ اور مسئلہ کشمیر حائل ہے، میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آنی چاہیے لیکن حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو فی الحال اس کے کوئی امکانات دکھائی نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان جنوبی ایشیا میں اجارہ داری قائم کرناچاہتاہے، بھارت میں مسلمانوں ، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے لئے زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امکان بارے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس بارے کوئی سوچ بچارنہیں ہو رہی، اسرائیل ایک غاصب ریاست تھی اور ہے اور ہم فلسطینیوں کے حقوق اورفلسطینی مہاجرین کی ان کی زمینوں پر واپسی کے حامی ہیں۔معیشت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ معیشت کی بہتری کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے دوررس اثرات ہوں گے ، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام قانون سازی کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے اور بڑے معاشی فیصلے اسی پلیٹ فارم سے ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر کے ریٹ کا نیچے جانا پہلے بھی ہوا ہے لیکن ڈالر کے ریٹ میں 40 یا 45 روپے کی ایک دم سے کمی پہلی دفعہ ہوئی ہے اور چونکہ عام لوگوں، میڈیا اور کاروباری طبقے نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے فوائد کو دیکھ لیا ہے اس لیے اس کا جاری رہنا ضروری ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل میں فوج معاون کردار اداکرتےہوئے معاشی بحالی کے عمل کو مہمیز دے رہی ہے۔بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کا ایک مسئلہ سکیورٹی ہے اور دیگر میں وسائل کی کمی اوربعض انتظامی خامیاں شامل ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ روزکوئٹہ میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بتایاگیاکہ صوبے میں گھوسٹ سکولوں اور بنیادی مراکز صحت کی نشاندہی کی گئی ۔ ان سے کچھ لوگوں نے مالی فائدہ اٹھایا لیکن بلوچستان کے عوام متاثر ہوئے۔