نگران حکومت کے بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار کو سہولت دینے کے لیے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، نگران وزیراعظم کی امریکی کمپنی کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

Caretaker Prime Minister
Caretaker Prime Minister

اسلام آباد۔21فروری (اے پی پی):نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نگران حکومت کی قلیل مدت میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار کو سہولت دینے کے لیے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت پاکستان میں کھربوں ڈالر کی معدنیات کا شعبہ ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے، نمک کی برآمد میں اضافے سے پاکستان اور امریکا کے تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکی کمپنی مریکل سالٹ کلیکٹیو انکارپوریشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے چیئرمین و پریزیڈنٹ بورڈ آف ڈائیریکٹرز احمد ندیم خان کی سربراہی میں ان سے ملاقات کی۔ ب

دھ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں نگران وفاقی وزیر توانائی محمد علی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ ملاقات میں وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ گزشتہ روز پی ایم ڈی سی اور مریکل سالٹ کے مابین دستخط ہونے والے جوائنٹ وینچر کے بعد پاکستان کی نمک کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور یہ امریکا پاکستان کے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین مواقع موجود ہیں، ہمالیائی گلابی نمک پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان ہے، اس کی بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد خوش آئند امر ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں کھربوں ڈالرکی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت پاکستان میں اس شعبے کی ترقی کی نئی منازل طے کی جارہی ہیں، نگران حکومت کی قلیل مدت میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار کو سہولت دینے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے جس کے مثبت نتائج آ رہے ہیں۔

مریکل سالٹ کے وفد نے حکومت بالخصوص خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے کمپنی کے ساتھ تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ وفد نے وزیراعظم کو بتایا کہ کمپنی کی پاکستان میں تشکیل کے بعد اسے دنیا بھر کی بڑی سٹاک ایکسچینجز پر لسٹ کیا جائے گا جس سے حکومت پاکستان اور مقامی سرمایہ کاروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ وفد نے وزیراعظم کو نمک کی کان کنی کے علاقوں میں مقامی آبادی کی معاشی بہتری، تعلیم و صحت اور روزگار کی فراہمی کے حوالے سے مرتب کردہ لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا۔