نگران وزیر اعلی ٰنے کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور بند روڈ پراجیکٹ پیکیج ون کا افتتاح کردیا, دن رات کی محنت سے پراجیکٹ وقت سے قبل مکمل کیاگیا،محسن نقوی

Mohsin Naqvi

لاہور۔16فروری (اے پی پی):نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور بند روڈ پراجیکٹ پیکیج ون کا افتتاح کردیا۔وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور بند روڈ پراجیکٹ کا دورہ کیااور پیکیج ٹو پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا۔ میگا منصوبہ 16ماہ کی بجائے صرف 100 روز میں مکمل ہوا ہے۔وزیراعلی نے پراجیکٹ کے پیکیج ون کی ریکارڈ مدت میں تکمیل پر متعلقہ حکام اور کنٹریکٹر کی محنت کو سراہا۔ محسن نقوی کو کمشنر لاہورڈویژن و ڈی جی ایل ڈی اے نے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی۔وزیر اعلی پنجاب نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بہترین ٹیم ورک اور دن رات کی محنت سے کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور پراجیکٹ پیکیج ون وقت سے قبل مکمل کیاگیا۔

نیازی چوک سے سگیاں تک منصوبے کو مکمل کرلیا گیاامید ہے کہ سگیاں سے بابو صابو تک پیکیج ٹو بھی آئندہ چند روز میں مکمل کرلیا جائے گا۔ ایل ڈی اے اور نیسپاک کی ٹیم نے کم لاگت سے بین الاقوامی معیار کا منفرد ڈیزائن تیار کیا۔ انہوں نے کہاکہ نیازی انٹرچینج تا بابو صابو انٹرچینج 7.3 کلو میٹر طویل کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا ہائی رائزڈمنصوبہ ہے۔ ایل ڈی اے، نیسپاک اور کنٹریکٹر نے چوبیس گھنٹے بلا تعطل کام کر کے محض 100 دن پیکج ون مکمل کیا۔بند روڈ پراجیکٹ میں سروس روڈ پر آنے جانے کیلئے 9 سب ویز بھی بنائے گئے۔یہاں یومیہ 2 لاکھ سے زائد گاڑیاں گزریں گی، وقت اور ایندھن کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔ وزیراعلی نے کہاکہ پراجیکٹ کی ریکارڈ مدت میں تکمیل پر وزیر ہاؤسنگ سیداظفر علی ناصر، سیکرٹری ہاؤسنگ ساجد ظفر، کمشنروڈی جی ایل ڈی اے محمد علی رندھاوا اور چیف انجینئر ایل ڈی اے، نیسپاک ٹیم،کنٹریکٹر حبیب کنسٹرکشن،پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ان کی پوری ٹیم شاباش کی مستحق ہے۔ کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور مکمل ہوگیا،کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور کو رنگ روڈ ہی کہنا چاہیے۔

کنٹرولڈایکسس کوریڈورپراجیکٹ مکمل ہونے سے رنگ روڈ کا سرکل مکمل ہوگیاہے۔ ایس ایل تھری اور رنگ روڈ دونوں اطراف سے ملتان روڈ سے منسلک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور پراجیکٹ ناممکن لگتاتھا، کنٹریکٹرز نے بہت محنت کی، ایک وقت میں دونوں پراجیکٹس کومکمل کیا گیا۔کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور کی تعمیر کے دوران ٹریفک کے روانی کو یقینی بنانا بہت اہم تھا، مسائل آئے لیکن سی ٹی او عمارہ اطہر کی قیادت میں ٹریفک پولیس نے اچھے انداز میں ٹریفک رواں رکھی۔ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اس پراجیکٹ کو بھرپور سپورٹ کیاہے، ایک گھنٹہ بھی ضائع نہیں کیا۔ وزیراعلی نے کہاکہ صوبائی وزیر اظفر علی ناصر اب اپنے گھر شفٹ ہوجائیں کیونکہ کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور مکمل ہوچکاہے۔صوبائی وزیر ہاؤسنگ، ڈی جی ایل ڈی اے اور چیف انجینئر مسلسل کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور کی نگرانی کرتے رہے۔

کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور پراجیکٹ کے 40سے 50دورے کئے، سیکرٹریز اور میڈیا ٹیم ساتھ ہوتے تھے۔ڈی جی ایل ڈی اے سے سپیڈ کی شکایت تھی لیکن جب ڈی جی ایل ڈی اے نے سپیڈ پکڑی تو ان کی سپیڈ کا کوئی ثانی نظر نہیں آرہا۔ایک سال کے عرصے میں ڈی جی ایل ڈی اے کی زیر نگرانی کئے گئے پراجیکٹس ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، انہوں نے بہت کام کیاہے۔کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور پراجیکٹ تقریبا 7.3کلو میٹر پر محیط ہے، سب وے شامل ہیں، 2لاکھ سے زائد گاڑیاں مستفید ہوں گی۔کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور پراجیکٹ کی تکمیل کے دوران بہت مسائل آئے لیکن الحمدللہ تمام عبور کئے۔ شاہدرہ برج، امامیہ کالونی اور بند روڈ پراجیکٹ کی تکمیل سے یہ علاقہ کسی صورت گلبرگ سے کم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور پراجیکٹ مکمل ہونے پر علاقے کے رہائشیوں اور ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ٹیم یکجا ہوکر کام نہ کرتی تو کسی صورت بھی پراجیکٹ کی تکمیل ممکن نہیں تھی۔

کنٹرولڈ ایکسس کوریڈور پراجیکٹ کی تکمیل کے دوران دھند، بارش اور ڈرینج کے مسائل کا سامنا رہا۔ہر بندے نے پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے اپنا حصہ ڈالا ہے، نیسپاک نے بہترین مانیٹرنگ کی ہے۔ بحیثیت ٹیم آپ سب کو فخر ہونا چاہیے کہ اللہ نے اس چھوٹی سی خدمت کی عبادت کاموقع دیا، اللہ قبول فرمائے۔ صوبائی وزرا عامر میر، اظفر علی ناصر، بلال افضل،،چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سیکرٹریز ہاؤسنگ، تعمیرات ومواصلات،خزانہ، اطلاعات،کمشنر و ڈی جی ایل ڈی اے، سی سی پی او لاہور، ڈپٹی کمشنر لاہور، سی ٹی او لاہور، چیف ایگزیکٹو آفیسر ایل ڈبلیو ایم سی، ڈی جی پی ایچ اے، ڈی جی پی آر، چیف انجینئر ایل ڈی اے، چیف انجینئر ٹیپا، جی ایم نیسپاک اورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔