نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے جموں و کشمیر یوسف ایم الدوبے کی ملاقات

نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے جموں و کشمیر یوسف ایم الدوبے کی ملاقات

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہےکہ جموں وکشمیر کاتنازعہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی جڑ ہے،پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لئے پرعزم ہے،دنیا بھر میں خاص طور پر ہندوتوا کی شکل میں اسلاموفوبیا عالمی امن اورسلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔جمعرات کو وزیر اعظم آفس میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق نگراں وزیراعظم سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے جموں و کشمیر یوسف ایم الدوبے نے ملاقات کی۔وزیراعظم نے او آئی سی کے وفد کے دورہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کشمیر کاز کی حمایت میں او آئی سی کی مسلسل کوششوں کو خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے تناظر میں سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام کو او آئی سی سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی جڑ ہے، اس کے حل سے ہی خطے میں امن قائم رہ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول کے لیے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی زبردست قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں نے حمایت کے لیے ہمیشہ او آئی سی اور امت مسلمہ کی طرف دیکھا ہے۔

وزیر اعظم نے دنیا بھر میں خاص طور پر ہندوتوا کی شکل میں اسلامو فوبیا کے عروج پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے،ان قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ یوسف ایم الدوبے نے وزیراعظم کو جموں و کشمیر کے تنازع پر او آئی سی کے اصولی موقف کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کشمیر کاز کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور او آئی سی کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے جموں و کشمیر کے لیے ان کا پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کا دورہ اسی عزم کا اظہار ہے۔