واپڈا نے دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ایریا میں چٹانوں پر بنے تاریخی نقوش کو محفوظ بنانے کیلئے مشاورتی خدمات کا کنٹریکٹ ایوارڈ کر دیا

واپڈا نے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج کے اعدادوشمار جاری کر دیئے
واپڈا نے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج کے اعدادوشمار جاری کر دیئے

اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):واپڈا نے دیامر بھاشاڈیم پراجیکٹ ایریا میں چٹانوں پر بنے تاریخی نقوش کو محفوظ کرنے کے لیے مشاورتی خدمات کا کنٹریکٹ ایوارڈ کردیا۔ چار کروڑ 65لاکھ روپے مالیت کا یہ کنٹریکٹ کوالٹی سالیوشنز ٹیکنالوجیزنامی کمپنی کو دیاگیا ہے۔ کنٹریکٹ کے تحت دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ایریا میں براہِ راست متاثر ہونے والی اہم ترین تاریخی چٹانی نقوش کی تھری ڈی سکینگ کی جائے گی، اُن کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا اور اُس ڈیٹا کو بروئے کار لاکر مختلف ایپلیکیشن کے استعمال سے اُن کی ماڈلنگ کی جائے گی۔

مذکورہ مقصد کے لئے ایوارڈ کئے گئے مشاورتی خدمات کے کنٹریکٹ کا دورانیہ 8 ماہ ہے۔جنرل منیجر(دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ) واپڈا نزاکت حسین اور کوالٹی سالیو شنز ٹیکنالوجیز کے ڈائریکٹر بزنس ڈویلپمنٹ سعد احمد خان نے گزشتہ روز منعقد ہونے والی تقریب میں معاہدے پر دستخط کیے۔ممبر (واٹر) واپڈا جاوید اختر لطیف، چیف ایگزیکٹو آفیسر (دیا مر بھاشا ڈیم کمپنی) عامر بشیر چوہدری، ایڈوائزر کلچرل مینجمنٹ واپڈا فریال علی گوہر اور چیف انجینئر (کنٹریکٹس)دیا مربھاشا ڈیم پراجیکٹ عبدالرشید بھی اِس موقع پر موجود تھے۔

دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ پاکستان کے شمالی علاقہ میں تعمیر کیا جارہا ہے جہاں تاریخی چٹانی نقوش بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ واپڈا اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ایریا میں ثقافتی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لئے مینجمنٹ پلان پر کام کر رہا ہے۔ مینجمنٹ پلان کا مقصد دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے باعث زیر آب آنے والی چٹانوں پر نقش کی گئی تصویروں اور تحریروں کو محفوظ بنانا، میوزیم کا قیام اور گلگت بلتستان خصوصاً چلاس اور اس کے نواحی علاقوں میں ثقافتی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات عمل میں لانا ہے۔

دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے کلچرل مینجمنٹ پلان کے ذریعے 175سے 200 تک اہم ترین تاریخی چٹانی نقوش کی سکینگ کی جائے گی جو مختلف تاریخی ادوار کی عکاسی کرتی ہیں۔ جن تاریخی چٹانی نقوش کو محفوظ بنایا جائے گا، اِنہیں بین الاقوامی کنسلٹنٹ اور پاک جرمن آرکیولوجیکل مشن کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ہیرالڈ ہاپٹ مین نے شارٹ لسٹ کیا ہے۔