وزارت تجارت اورٹڈیپ کو برآمدات کے فروغ ،صنعت کے مسائل کے حل کیلئے 14نکات پر مشتمل سفارشات ارسال، کارپٹ ایسوسی ایشن

Carpet Association
Carpet Association

اسلام آباد۔21اپریل (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹڈیپ) کو برآمدات کے فروغ اور صنعت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے 14نکات پر مشتمل سفارشات ارسال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا روایتی حریف دنیا میں پاکستان کی پہچان سمجھے جانے والی ہاتھ سے بنے قالینوں کی مصنوعات کی برآمدات کو متاثر کرنے کی حکمت عملی کے تحت مراعات اور ریلیف دے رہا ہے ۔ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین عثمان اشرف کی جانب سے وزارت تجارت اور ٹڈیپ کو ارسال کی گئی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین ہالینڈ، بیلجیئم، ترکیہ ،مشرقی یورپ، ایشیائی خطے کے عرب ممالک ،میکسکو ، روس کی مارکیٹوں کیلئے ڈیوٹی ٹیرف میں کمی ،فضائی اور سمندر کے راستے بین الاقوامی فریٹ چارجز میں سبسڈی دی جائے۔

لگژری آئٹم کے سٹیٹس کے طور پر ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمد میں 120دنوں کے علاوہ کریڈٹ کی مدت میں 270 دن تک توسیع دی جائے ،کم ٹیرف اور حفاظتی نقطہ نظر کے پیش نظر لاہور سے کراچی ریلوے بانڈڈ کارگو کو دوبارہ شروع کیا جائے ،ویبنارز اورورکشاپس کے ذریعے ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعور میں معاونت فراہم کی جائے ۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس کے 5ویں شیڈول کے تحت کمرشل درآمد کنندگان کو ایس آر146پیرا تھری کسٹم ٹیرف میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو ریلیف دیا جائے ۔

سفارشات میں مزید کہا گیا ہے کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات کو بڑھانے کیلئے ریسرچ وڈویلپمنٹ اور نئی منڈیوں کی تلاش کیلئے خصوصی بجٹ مختص کیا جائے ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے برآمدی مصنوعات کی رقوم کی وصولی میں 60روز سے زائد تاخیر پر عائد 9فیصد جرمانے کے جاری سرکلر کو منسوخ کیا جائے ،بجٹ سے متعلقہ اور مستقبل میں مستقل موثر رابطوں کیلئے پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے نمائندے کی فوکل پرسن کے طور پر تقرری کی جائے ،برآمدی انڈسٹری کیلئے گیس اور بجلی کے بلوں میں کمی کی جائے ،

ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے مستقل ممبران کا تقرر اورری فنانس مارک اپ کی شرح کو19فیصد سے کم کر کے 10فیصد کیا جائے جبکہ غیر ملکی نمائشوں میں پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی شرکت میں مالی معاونت کو 50/50کی بجائے80/20 کے فارمولے کے مطابق کیا جائے۔