وزارت مذہبی امور نے 47ویں دو روزہ بین الاقوامی سیرة النبی ﷺ کانفرنس کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):وزارت مذہبی امور نے 47ویں دو روزہ بین الاقوامی سیرة النبی ﷺ کانفرنس کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے ” معاشرے کی اخلاقیات کی اصلاح اور تربیت سیرت طیبہ کی روشنی میں ” کے موضوع پر کانفرنس 11 اور 12 ربیع الاوّل کو اسلام آباد میں منعقد ہوگی ۔

وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ربیع الاول کا ماہ مبارک تمام مسلمانوں کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اس ماہ مبارک میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺاس دنیا میں تشریف لائے۔اس سال وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے47ویں دو روزہ بین الاقوامی سیرة النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد اس ماہ مبارک کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ایک کاوش ہے۔

وزارت مذہبی امور کی یہ بھی کوشش ہے کہ ملک کے اندرونی حالات کے پیش نظر مذہبی ہم آہنگی و رواداری ، اخوت و مساوات، احترام انسانیت ، عدم تشدد ، اتحاد واتفاق ،مفاہمتی عمل اور ڈائیلاگ کے کلچر پر مبنی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔ہر سال اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے سیرة النبیﷺ کانفرنس کا انعقا د قومی یا بین الاقوامی سطح پر کیا جاتاہے۔

وزارت ہر سال عربی اور انگریزی زبانوں سمیت قومی ، علاقائی ، اور دیگر بین الاقوامی زبانوں ، کتب سیرت و نعت کے مقابلوں کا اعلان کرتی ہے۔اس میں کسی ایک عنوان پر مقابلہ مقالاتِ سیرت کا بھی اعلان ہوتا ہے۔ سال 2022کے مقابلہ کتب سیرت ونعت کااعلان مارچ کے مہینے میں کیا گیا تھا۔ اس مرحلے میں منتخب ہونے والی ہر کتاب اور ہر مقالہ کو کم از کم تین ماہرین پر مشتمل منصفین کی کمیٹی کو تفصیلی جانچ پڑتال کے لئے ارسال کیاگیا تھا-یہ منصفین اور ماہرین یونیورسٹیوں کے پی۔

ایچ۔ڈی سطح کے پروفیسرز ہوتے ہیں۔بعد ازاں اِن ماہرین کی رپورٹس کو ایک دوسری ماہرین کی اعلیٰ کمیٹی جسے اپیکس کمیٹی کہا جاتا ہے کے سپر د کیا جاتا ہے ۔ یہ کمیٹی ہر کتاب اور اس کے بارے میں موصول شدہ تمام رپورٹوں اور آراءکی جانچ پرکھ کے بعد فیصلہ کرتی ہے کہ کون سی کتاب کون سے انعام کی مستحق ہے۔ اس طرح بہترین انعام یافتہ قرار پانے والی کتاب یامقالات سیرت کا تعین ہوتا ہے۔

سال 2022کے مقابلہ کتب سیرت ونعت کے لئے کل130کتابیں موصول ہوئیں جن میں انعام حاصل کرنے والے خوش نصیب افراد کی تعداد 25 ہے جبکہ 93مقالات سیرت موصول ہوئے جن میں انعام حاصل کرنے والے خوش نصیب افراد کی تعداد31ہے۔ اس سال خوش نصیب انعام یافتگان کی کل تعداد56 ہو گی۔

ترجمان نے کہا کہ حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبین ﷺکی زندگی ہمارے لیے ایک کامل نمونہ ہے۔ چونکہ آپﷺ خاتم النبین ہیں اس لیے آپکی مبارک تعلیمات میں ہر ممکنہ مسئلہ کا حل موجود ہے۔اس وقت معاشرہ کی اخلاقی قدروں کو مزید بہتر بنانے کی حاجت ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امرکی تھی کہ اسکے بارے میں تعلیمات نبوی کو پھرسے تازہ کیا جائے اور اس سے رہنما ئی لی جائے اور معاشر ے کی اخلاقیات کی اصلاح اور تریبت کی جائے تا کہ معاشرہ میں توازن ، اعتدال اور یکجہتی کی فضاءپیدا ہو۔اس موضوع پر ملک بھر سے اسلامی محققین نے مقالات لکھے۔

اس موضوع پر ملک کے نامور اہل علم حضرات 12 ربیع الاول کوبین الاقوامی سیرة النبی ﷺکانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار بھی فرمائیں گے اور بتائیں گے کہ کیسے تعلیمات نبوی کی روشنی میں ہم اعلیٰ اخلاقی قدروں کو پھر سے معاشرے میں پیدا کرسکتے ہیں۔ ہر سال قومی یا بین الاقوامی سیرة لنبی ﷺ کانفرنس تعلیمات نبوی ﷺکے فروغ اورپرچارکے لیے منعقد کی جاتی ہے۔جس میں ملکی اور بیرونی دنیا ئے اسلام کے معروف مذہبی اسکالرزشرکت کر تے ہیں۔اس طرح کی کانفرنسوں میں علمائے کرام کے باہمی میل جول سے اختلافات کو بھی کم کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع فراہم ہوتا ہے اور مذہبی ہم آہنگی ورواداری کے حوالہ سے بھی اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس سال دو روزہ بین الاقوامی سیرة النبی ﷺ کانفرنس کا موضوع “معاشرے کی اخلاقیات ، اصلاح اور تربیت سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں” رکھا گیا ہے ۔ کانفرنس کی اسی اہمیت کے پیش نظروزارت مذہبی امورکانفرنس کی کارروائی اور معیاری مقالاتِ سیرت کو جو اس موضوع پر لکھے گئے ہوتے ہیں، کو چھپوا کرخواہش مند افراد اور اداروں میں مفت تقسیم کرتی ہے۔

بعد ازاں ان مقالات کو وزارت کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کردیا جاتا ہے۔اس سال دو روزہ بین ا لاقوامی سیرة النبی ﷺ کانفرنس بمطابق 11 اور 12 ربیع الاوّل کو منعقد ہوگی۔ کانفرنس کے پہلے دن کی تقریب میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی ز اہد اکرم درانی مہمان خصوصی ہونگے۔

اس تقریب میں وہ معزز مہمان شر کت کریں گے جنہوں نے مقابلہ کتب سیرت و نعت میں مختلف پوزیشن حاصل کیں۔ ان میں انعامات تقسیم کیے جائیں گے اور اسکے بعدمحفل نعت کا پروگرام ہوگا جس میں ملک کے نامور نعت خوان نعت خوانی کریں گے،کانفرنس کے دوسرے روز دو اجلاس ہوں گے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت صدر مملکت جبکہ اختتامی اجلاس کی صدارت وزیراعظم کریں گے۔