وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس، دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ

انقرہ۔1جون (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دونوں برادر ممالک کے درمیان بہترین دوطرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مشترکہ تاریخ اور مقاصد پر مبنی ہیں اور یہ تعلقات نسل در نسل جاری رہیں گے، پاکستان اور ترکی کے درمیان قریبی دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا، ستمبر میں اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوگا جس سے دونوں ممالک کو اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا موقع ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا کہ اس سال دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے صدر اردوان سے ملاقات کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ترک صدر کی فعال قیادت میں دوطرفہ تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچیں گے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار کو بڑھانے کا بھی اعادہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال اور پرخلوص مہمان نوازی پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترکی آنا ہمارے لئے اپنے دوسرے گھر آنے کے مترادف ہے، میں اپنے ساتھ پاکستانی عوام کی طرف سے ترکی میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لئے نیک خواہشات کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات مشترکہ ثقافتی مذہبی اور روحانی ورثے سے جڑے ہوئے ہیں جو وقت کی حدود، جغرافیہ اور سیاست سے ماورا ءہیں، ہم ان رشتوں کو ایک مقدس امانت کے طور پر دیکھتے ہیں جو ہمارے آبائو اجداد نے ہمیں دی ہے اور جسے ہم اپنی آنے والی نسلوں کے حوالے کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس سال ہمارے دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ شایان شان طریقہ سے منا رہے ہیں، میرے پیارے بھائی صدر رجب طیب اردوان کی متحرک اور بصیرت افروز قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ممالک اعلیٰ سطحی سٹرٹیجک تعاون کونسل کے اجلاسوں میں جامع بات چیت میں مصروف ہیں جو ہمارے مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں، مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ میرے بھائی صدر اردوان نے اگلا اعلیٰ سطحی اجلاس ستمبر میں اسلام آباد میں منعقد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں صدر طیب اردوان کا بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے ہمیں میزبانی کا موقع فراہم کیا اور ہم ان انتہائی نتیجہ خیز ملاقاتوں کے منتظر ہیں، پاکستانی عوام آپ کا پرتپاک خیرمقدم کریں گے۔ یہ بھی طے پایا ہے کہ جون میں ایک مضبوط تجارتی وفد بھی پاکستان کا دورہ کرے گا، ہماری ٹیم وہاں ملاقاتوں کے لئے مناسب تیاری کرے گی تاکہ ہم ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ای کامرس، ٹورازم، تعلیم اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ جیسے بہت سے شعبے ہیں جہاں ترکی نے غیر معمولی ترقی کی ہے، پن بجلی کی پیداوار اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہمیں ترکی سے سرمایہ کاری کی صورت میں تعاون حاصل کرنے پر بہت خوشی ہو گی، ہمارے ترک بھائی سرمایہ کاری سے منافع کمائیں گے اور ہمیں سستی توانائی ملے گی جو کہ ایک بہت بڑی جیت ہوگی۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبہ میں تعاون کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی فطری شراکت دار ہیں، ہمارے یکساں مواقع کی طرح بہت سے چیلنجز بھی ایک جیسے ہیں، ہماری قومیں ہمیشہ مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہیں، پاکستان کے عوام بنیادی دلچسپی کے مسائل خاص طور پر مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت پر صدر رجب طیب اردوان کو سراہتے ہیں، تنازعہ کشمیر پر ترکی کی غیر متزلزل حمایت سے بہادر کشمیری عوام کو بڑا حوصلہ ملتا ہے جو سات دہائیوں سے بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے صدر طیب اردوان کو بھارتی غیر قانونی اقدامات سے علاقائی امن و استحکام کو لاحق خطرات سے متعلق آگاہی دی، پاکستان امن کی اپنی جستجو کو ترک نہیں کرے گا لیکن ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ترک قبرصی بھائیوں کے مقصد کی بھرپور حمایت کی ہے اور ہم ان کے جائز حقوق اور امنگوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ کھڑا ہے اور ترکی کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری شراکت داری ہمیشہ کی بھلائی کی طاقت ہے اور ہم نے ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کے مشترکہ مقاصد کو فروغ دینے کے لئے کئی دہائیوں سے مل کر کام کیا ہے، ہمارے دونوں ممالک دنیا میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی آبادی کی میزبانی کرتے ہیں اور یہ ہم اپنے محدود وسائل سے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان جذباتی رشتہ روایتی بین الریاستی اور سفارتی تعلقات سے بالاتر ہے، یہ ایک تاریخی اور اٹوٹ رشتہ ہے جو ہمارے دلوں میں بستا ہے، یہ منفرد رشتہ ہمیں ہر سطح پر جوڑتا ہے جس کی مثالیں آج کی دنیا میں بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ستمبر میں صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں، اس سے ہمیں اپنے برادرانہ تعلقات کی تجدید اور انہیں مزید مضبوط کرنے کا موقع میسر آئے گا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خوشحالی کیلئے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون ترجیح ہے، دونوں ممالک کے درمیان مواصلات، تعلیم، ماحولیات اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں قریبی تعاون ہے، پاکستان کو بحری جہازوں کی تیاری میں ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیںِ، عالمی فورمز پر پاکستان کی بھرپور حمایت پر شکرگزار ہیں، مختلف عالمی فورمز پر اہم بین الاقوامی و علاقائی امور پر پاکستان اور ترکی یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی جائز امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرامن اور خوشحال افغانستان خطہ کے مفاد میں ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کو بھرپور امداد فراہم کی گئی۔ ترک صدر نے کہا کہ ہماری بات چیت ثمرآور ثابت ہو گی، میں اپنے پیارے بھائی محمد شہباز شریف اور ان کے وفد کا ترکی کا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کیلئے نیک خواہشات کا پیغام دیتا ہوں۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر دونوں رہنمائوں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں نے باہمی مفادات کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔