وفاقی سیکرٹری صحت افتخار علی شلوانی کا قومی انسداد پولیو مہم کے پہلے روز اسلام آباد میں سرگرمیوں کا جائزہ ،پولیو ٹیموں سےبھی ملاقات

Federal Secretary Health Iftikhar Ali Shilwani
Federal Secretary Health Iftikhar Ali Shilwani

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری برائے صحت افتخار علی شلوانی نے قومی انسداد پولیو مہم کے پہلے روز اسلام آباد میں پولیو مہم کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور پولیو ٹیموں سے بھی ملاقات کی۔سیکرٹری صحت نے ضلعی انتظامیہ کے افسران اور کوآرڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر شہزاد کے ہمراہ یونین کونسل شاہ اللہ دتہ میں کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کا دورہ کیا جہاں پولیو ویکسین کی سپلائی اور فکسڈ ٹیموں کی کارکردگی کا معائنہ کیا۔اس موقع پر سیکرٹری صحت نے فیلڈ میں گھر گھر جا کر بچوں کی ویکسینیشن یقینی بنانے والی پولیو ٹیموں سے ملاقات کی ،آنے والی نسلوں کو پولیو سے بچانے کیلئے ان کی محنت اور لگن کو سراہا اور اپنے مشن کو اسی جوش و جذبے سے جاری رکھنے کیلئے ٹیموں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

سیکرٹری صحت نے یونین کونسل رورل کے علاقے ڈھوک عباسی، زم زم پلازہ میں ٹرانزٹ ویکسینیشن پوائنٹ کا بھی دورہ کیا۔ ٹرانزٹ ٹیمیں ان بچوں کی پولیو ویکسینیشن یقینی بناتی ہیں جو سفر کر رہے ہوں یا گھر گھر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے رہ گئے ہوں۔سیکرٹری صحت افتخار شلوانی نے کہا کہ پولیو وائرس کئی دہائیوں سے ہمارے بچوں کیلئے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے جو زندگیاں تباہ کرکے مفلوج بنا دیتا ہے، ہم اس بیماری کو مزید بڑھنے اور پھیلنے نہیں دے سکتے۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ سال پولیو کے صرف 6 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور ہم پہلے سے کہیں زیادہ پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ چکے ہیں مگر پولیو سے پاک پاکستان کے حصول کیلئے پہلے سے بھی زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور رہے گی، میں ذاتی طور پر ملک کے مختلف حصوں بالخصوص پولیو سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں اس مہم کی نگرانی کررہا ہوں تاکہ ٹیموں اور لوگوں سے ملاقاتیں کرکے چیلنجز سے آگاہ رہوں کیونکہ ہم اس ملک سے پولیو کے خاتمے کی کوششیں کررہے ہیں۔وزارت صحت رواں سال کی دوسری ملک گیر انسدادِ پولیو مہم کا انعقاد کررہی ہے جس کا مقصد پانچ سال سے کم عمر 45.8 ملین سے زائد بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنانے کیلئے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہیں۔ 26 فروری سے شروع ہونے والی مہم 9 مارچ تک جاری رہے گی۔