پاکستانی فلم انڈسٹری کا رانجھا ،اعجازدرانی کو ہم سے بچھڑے تین برس بیت گئے

Senior actor Ijaz Durrani
Senior actor Ijaz Durrani

لاہور۔29فروری (اے پی پی):پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار اعجاز درانی کی تیسری برسی یکم مارچ کو منائی جائے گی۔دلکش خدوخال کے حامل اعجاز درانی نے نہ صرف 150 کے قریب اردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کی بلکہ کئی کامیاب فلمیں بھی پروڈیوس کیں جس میں سپر ہٹ پنجابی فلم ‘ہیر رانجھا’ بھی شامل ہے۔اعجاز درانی 18 اپریل، 1935 کو متحدہ ہندوستان کے شہر جلال پور جٹاں کے قریب ضلع گجرات کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ جہلم سے بی اے پاس کرنے کے بعد وہ لاہور آ گئے اور 21 سال کی عمر میں فلم ‘حمیدہ’ کے ذریعے فلم نگری میں قدم رکھا گئے۔

اپنے کریئر کے آغاز میں ہی انہوں نے اپنے وقت کی مقبول ترین اداکارہ میڈم نورجہاں سے شادی کر لی تھی ۔1960 کی دہائی میں ان کی ازدواجی زندگی اور فلمی سفر دونوں عروج پر تھے اور نئے اداکاروں کی آمد کے باوجود اعجاز درانی نے کئی ہٹ فلمیں دیں جن میں’شہید’، ‘بدنام’، ‘لاکھوں میں ایک’، ‘بہن بھائی’ اور ‘زرقا’ شامل تھیں۔’زرقا’ نہ صرف پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم ثابت ہوئی ۔فلم ‘بہن بھائی’ میں انہوں نے منفی کردار ادا کیا ۔انہوں نے 70 کی دہائی کا آغاز بھی کامیابی سے کیا نہ صرف کراچی میں پلاٹینیم جوبلی کرنے والی پہلی پنجابی فلم ‘انورہ’ میں ان کا کام سب کو پسند آیا بلکہ اسی سال اپنی ہوم پروڈکشن ‘ہیر رانجھا’ میں انہوں نے رانجھے کا کردار ادا کر کے ہمیشہ کے لیے رانجھا بن گئے۔’ہیر رانجھا’ میں فردوس کے ساتھ ان کی جوڑی سب کو پسند آئی اور اس کے گانے آج بھی پسند کیے جاتے ہیں۔’

ہیر رانجھا’ کی کامیابی کے بعد اعجاز کا شمار صفِ اول کے فلم سازوں میں ہونے لگا۔ اگلے ہی سال انہوں نے ‘دوستی’ پروڈیوس کر کے پاکستان کو دوسری اُردو ڈائمنڈ جوبلی فلم بھی دے دی۔ اس فلم کی زیادہ تر شوٹنگ لندن میں ہوئی تھی اور اس میں ان کے ساتھ اداکار رحمان اور شبنم تھے۔فلم کا گانا ‘چٹھی زرا سیاں جی کے نام لکھ دے’ آج بھی مقبول ہے۔ ستر کی دہائی کے آغاز میں میڈم نورجہاں نے ان سے طلاق لے لی اور اعجاز کا نام اداکارہ فردوس بیگم(ہیر) کے ساتھ جوڑا جانے لگا۔

لیکن انہوں نے فلم ‘دوستی’ کے ہدایت کار شریف نیر کی بیٹی سے شادی کر لی جو آخر تک قائم رہی۔اعجاز درانی ایک اداکار و فلم ساز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب بزنس مین بھی تھے۔ ان کا شمار ان چند فلمی شخصیات میں ہوتا ہے جو اداکاری اور فلم سازی کے ساتھ ساتھ سنیما ہائوسزکے مالک بھی رہے۔ لاہور اور راولپنڈی میں واقع سنگیت سنیما انہی کی ملکیت تھی۔۔

اعجاز درانی نے پنجابی فلم ‘شعلے’ اور ‘مولا بخش’ پروڈیوس کیں جو باکس آفس پر کامیاب ہوئیں۔بحیثیت اداکار ان کی آخری فلم ‘جھومر چور’ تھی جو 1986 میں ریلیز ہوئی جس میں ان کے ساتھی اداکار جاوید شیخ اور شبنم تھے۔اس فلم کے بعد انہوں نے شوبز سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ان کا انتقال 86سال کی عمر میں 2021میں ہوا ۔