پاکستان کا تنازعات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کےامن مشن کے کردار کو مضبوط بنانے کی ضرورت پرزور

Munir Akram

اقوام متحدہ ۔31اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے د نیا بھر سے تنازعات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشن کے کردار اور اہلیت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن مشنز کو تنازعات اور تشدد کی بنیادی وجوہات کو تلاش کر کے ان کے حل کے لیے کوششیں کرنا ہو گی ۔

اقوام متحدہ میں متعین پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی میں اقوام متحدہ کے امن آپریشنز پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہاکہ امن مشن کو ایک مجموعی ‘سیاسی حکمت عملی’ کا حصہ ہونا چاہیے جو مجرمانہ اور دہشت گرد تنظیموں ، ماحولیاتی عوامل، ترقیاتی خسارے، نسلی اور قبائلی اختلافات اور خصوصی سیاسی اور نوآبادیاتی مسائل کی موجودگی میں تنازعات اور تشدد کے بنیادی عوامل کو تلاش کر کے انہیں حل کرے ۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے امن دستوں کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ اقوام متحدہ کی فلیگ شپ سرگرمی اس کی کامیابی کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں کے دوران 47 امن مشنز کے لیے اپنے 230000 اہلکار مہیا کیئے جبکہ اس طرح کے آپریشنوں میں سے ایک اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ ان انڈیا اینڈ پاکستان (یواین ایم او جی آئی پی) کی ایل او سی پر جنگ بندی کے مشاہدہ کی میزبانی بھی کی ہے۔

سفیرمنیر اکرم نے کہا کہ پاکستان دنیا کے 130 ممالک سے تعلق رکھنے والے 4ہزار 314اقوام متحدہ کےان امن فوجیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے عالمی امن کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں ان میں 171 پاکستانی امن اہلکار بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کا بلو ہیلمٹ امن کا ضامن اور دنیا کے کئی حصوں میں استحکام کے حامیوں کے طور پر ابھرا ہے ۔سفیر منیر اکرام نے امن فوجیوں کے خلاف حملوں کے لیے جوابدہی کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے امن مشن اور امن دستوں کے خلاف بڑھتی ہوئی غلط معلومات پر بھی فکر مند ہیں جو کہ امن دستوں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو فوجیوں اور پولیس میں تعاون کرنے والے ممالک کی جانب اپنی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔ انہوں نےاقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے امن مشن کے مستقبل پر سنجیدگی سے غور کرنے کے مطالبے سے اتفاق کرتے ہوئے اور مستقبل کے حوالے سے امن مشن کی طرف حکمت عملی سے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ امن دستوں اور امن نافذ کرنے والوں کے درمیان ہمیشہ واضح فرق رہنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک امن نافذ کرنے والے مشن کو مضبوط اور واضح مینڈیٹ، مناسب تربیت یافتہ، تجربہ کار اور لیس فوجیوں، خاطر خواہ وسائل کی تقسیم کی ضرورت ہوتی ہے جو مشن کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ اس تناظر میں علاقائی تنظیموں کا کردار امن کے نفاذ کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہاکہ پاکستان امن کے نفاذ کے تصور کو مزید فروغ دینے کے لیے اقوام متحدہ اور تمام دلچسپی رکھنے والی ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے کردار اور صلاحیت کو مضبوط کرنے اور ان کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔