پاکستان کی عدالتیں آزاد ہیں ، ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ،عدالت عظمی جو بھی فیصلہ کرے گی اس کا احترام کریں گے ، شبلی فراز

پاکستان کی عدالتیں آزاد ہیں ، ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ،عدالت عظمی جو بھی فیصلہ کرے گی اس کا احترام کریں گے ، شبلی فراز

اسلام آباد۔5اپریل (اے پی پی):پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان کی عدالتیں آزاد ہیں ، ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ،عدالت قوم کی فلاح کیلئے فیصلہ کرے گی ،عدالت عظمی جو بھی فیصلہ کرے گی اس کا احترام کریں گے ، پی ڈی ایم والے جہاں بھی جائیں ملک کے ہر طبقے کو ہمارے فیصلے سے خوشی ہوئی، نوجوان طبقے کو ہمارے فیصلے سے بہت زیادہ خوشی ہوئی ، اپوزیشن کی سیاست بٹنوں والے ٹیلی فون جیسی ہوگئی ہے، اس ملک کے عوام ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے کہ آئندہ کوئی بیرونی سازش کا آلہ کار بننے کی جرات نہیں کرے گا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کیا ۔ شبلی فراز نے کہا جو کیفیت اپوزیشن نے پیدا کی ہوئی ہے کہ اس کا مقصد سازش کو آگے بڑھانا ہے، اپوزیشن والے ملکی خارجہ پالیسی کو محکوم رکھنے کے ایجنڈے کو فروغ دے رہے ۔جنہوں نے پاکستان کو بھکاری کہہ دیا ہے وہ پاکستان کے لیے اہل ہی نہیں ہیں، وہ لیڈران جن پر نیب اور ایف آئی میں کیسز ہیں وہ اس ملک کے عوام کیلئے اہل ہی نہیں ،

ایک طرف انہوں نے قوم کو بھکاری کہا اور دوسری طرف ان کے منشی کے اکاؤنٹ میں چار ارب روپے ہوتے ،ان پر کرپشن کے بڑے بڑے کیسز ہیں،انہوں نے ملک کی سیاست کو تباہ کیا جمہوریت کو کمزور کیا ،انہوں نے سندھ ہاؤس میں جس کلچر کو فروغ دیا سب کے سامنے ہے ، مری، چھانگلا گلی، چھانگا مانگا کا کلچر سب کے سامنے ہے،یہ اپنا وقت پریس کانفرنسز اور عدالتوں میں ضائع کر رہے ہیں۔

شبلی فراز نے کہا ہمیں نئے انتخابات کی طرف جانا ہوگا،ہم تو پہلے بھی عوام میں جاتے رہے اور اب بھی عوام میں جا رہے ،یہ قوم جان چکی ہے کہ پی ڈی ایم والوں کا ایجنڈا کیا تھا، یہ لوگ الیکشن سے کیوں بھاگ رہے ہیں ،عوام کی طرف آئیں اور میدان میں مقابلہ کریں ،مقابلے میدان میں ہی ہوتے ہیں ،ہم میدان کے لوگ ہیں اور میدان میں مقابلہ کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کا مستقبل عوام سے ہے اور عوام اپوزیشن کی سازش کو ناکام بنائیں گے، ہم عوام میں جائیں گے اور فتح حق کی ہوگی ۔ خط سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمانی کمیٹی میں کیوں نہیں آئی ،ہم نےپارلیمانی کمیٹی میں خط دکھایا ۔

علیم خان سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس طرح کی باتیں علیم خان نے کیں اس پر افسوس ہوا ،آخری وقت پر ایسی بات کرنے کی کوئی اخلاقی وقعت نہیں ،یہ ایسے ہی ہے جیسے گاڑی میں بیٹھ کر کسی راہ چلتے شخص کو گالی دیکر بھاگ جانا ۔