پنجاب میں گزشتہ سیزن میں 1کروڑ60 لاکھ ایکڑ رقبہ پر گندم کی کاشت سے2 کروڑ10 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوئی، صوبائی سیکرٹری زراعت

Department of Agriculture

فیصل آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی):سیکرٹری زراعت پنجاب نادر چٹھہ نے کہاکہ پنجاب میں گزشتہ سیزن میں 1کروڑ60 لاکھ ایکڑ رقبہ پر گندم کی کاشت سے33 من فی ایکڑ اوسط پیداوار کے حساب سے2کروڑ10 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوئی جبکہ اس بار گندم کی کاشت اور اس کے پیداواری ہدف میں اضافہ کیا جارہا ہے اور جلد گندم کی پرکشش امدادی قیمت خرید کا بھی اعلان کردیا جا ئے گا

تا کہ کاشتکار زیادہ سے زیادہ رقبہ پر گندم کی کاشت کا عمل مکمل کرسکیں نیز اس بار محکمہ زراعت کے رجسٹرڈ کاشتکاروں کو گندم کے تصدیق شد ہ بیج کے50 کلوگرام وزنی تھیلے پر1500روپے فی بیگ سبسڈی،جڑی بوٹیوں پرکنٹرول کیلئے محکمہ کی سفارشات کے مطابق زرعی زہروں پر500روپے فی ایکڑ سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی جس کے ساتھ ساتھ ڈویژن بھر میں کاشتکاروں کوجدید طریقہ کا شتکاری سے آگاہ کرنے کیلئے 1120نمائشی پلاٹ بھی لگاکر دیئے جائیں گے اور پچھلے سال کی طرح پیداواری مقابلہ کے انعقاد سمیت سب سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے پر ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر انعامات سے بھی نوازا جا ئے گا۔

وہ جمعہ کی سہ پہر ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں بریفنگ اور سمندری فیصل آباد روڈ پر گندم کی کاشت کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار گندم کی منظور شدہ اقسام فخربھکر17، بھکرسٹار 19، عروج22، دلکش20، اکبر19، اناج 17، زنکول 16، جوہر16، بورلاگ16، اجالا16 اور فیصل آباد 2008کاشت کریں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ اقسام کا تصدیق شدہ بیج پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ڈیلرز سے حاصل کیا جاسکتا ہے

تاہم اگر گھر میں موجود بیج استعمال کرنا ہو تواسے سیڈ گریڈنگ اور پھپھوند کش زہر لگا کر کاشت کیا جا ئے۔ سیکرٹری زراعت نے کہا کہ آبپاش علاقوں میں گندم کی کاشت کا بہترین وقت یکم نومبر سے20 نومبرتک ہے تاہم ناگزیر وجوہات کی وجہ سے اسے30 نومبر تک بھی کاشت کیا جاسکتا ہے لیکن اگرپچھیتی کاشت ناگزیر ہوتو گندم کی مجوزہ اقسام کی بوائی 10 دسمبر تک مکمل کریں اور20 نومبر تک کاشت کیلئے شرح بیج40 سے45 کلو گرام جبکہ دسمبر تک کاشت کیلئے 50 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں اسی طرح اگر کھڑی کپاس میں گندم کاشت کرنی ہو تو شرح بیج 56 سے60 کلوگرام فی ایکڑ رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ ہماری گندم کی ایوریج ہمارے ہمسایہ ملک بھارت سے زائد ہے جس میں مزید اضافہ کی گنجائش بھی موجود ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پہلی باریوریا، ڈی اے پی،ایس ایس پی ودیگرمائیکرو نیوٹرینٹس کا بروقت اور صحیح استعمال کیا گیا ہے۔نادر چٹھہ نے کہا کہ انہوں نے ابھی حال ہی میں اپنے عہدہ کا چارج سنبھالا ہے لیکن وہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کا بھرپور تعاون سٹیک ہولڈرز کو حاصل رہے گاکیونکہ وہ خود کسان کے بیٹے اور کسانوں کے مسائل کو بہتر سمجھتے ہیں۔ سموگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں حتیٰ کہ فصلات کیلئے بھی سخت نقصان دہ ہے لہٰذا ہمیں ایسے تمام عوامل کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جو سموگ کا باعث بنتے ہیں۔

سیکرٹری زراعت نے کہا کہ سموگ سے حد نظر کم ہونے سے شاہرات پر حادثات کا احتمال بھی بڑھ جاتا ہے اسلئے دھان کے کاشتکار مڈھوں کو آگ لگانے کی بجائے زمین میں ملادیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی قوانین کے مطابق دھان، گندم، کماد و دیگر فصلات کی باقیات کو آگ لگا نا قابل سزا جرم ہے جس کی سزا پنجاب ماحولیاتی تحفظ (سموگ کا سد باب و روک تھام) قوانین 2023کی دفعہ (2)7 کے تحت کم سے کم15000 روپے فی ایکڑ اور اسی قانون کی شق (جی) (1) 12 کے تحت کاشتکار کے خلاف مقدمہ کا اندراج اور اسے قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

سیکرٹری زراعت نے کہا کہ دھان کی کٹائی کے دورانیہ میں مسلسل سیٹلائٹ (سپارکو) کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائے گی اور کھیت میں آگ لگانے والا کسی صورت چھپ نہیں سکے گااسلئے کاشتکاریا درکھیں کہ آپ کی عزت اور وقار مقدم ہے مگر قانون شکنی کسی صورت معاف نہیں ہوگی لہٰذا کسان خود بھی دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے بازر ہیں اور دوسرے کسانوں کو بھی بازوممنوع رکھ کر وطن عزیز کو سموگ جیسی مہلک آفت سے بچائیں۔اس موقع پر ایوب ریسرچ کے ماہرین نے انہیں بریفنگ دی جبکہ اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری عبدالحمید اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔