چین اور پاکستان کا ثقافتی رشتہ 2500 سال پرانا ہے،پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط رشتہ ہے جس کی مثال سی پیک سے ملتی ہے،مدد علی سندھی

Federal Minister Madad Ali Sindhi
Federal Minister Madad Ali Sindhi

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت مدد علی سندھی نے کہا ہے کہ چین میں گزشتہ 70 سالوں میں جو ترقی ہوئی ہے وہ مثالی ہے، چین اور پاکستان کا ثقافتی رشتہ 2500 سال پرانا ہے،موہنجو دڑو، ٹیکسلا اور گندھارا کی تہذیب کی باقیات دنیا کی دو قدیم ترین تہذیبوں کے درمیان بدھ مت کے تبادلے کی عکاسی کرتی ہیں، پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط رشتہ ہے جس کی مثال سی پیک سے ملتی ہے۔ انہوں نے یہ بات لیو جیان منگ کے ڈپٹی پارٹی سیکرٹری، سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور کے ڈپٹی پولیٹیکل کمیسر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ مدد علی سندھی نے کہ انہوں نے تعلیم کے معیار اور اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی کو ترجیح دی ہے،

چین میں گزشتہ 70 سالوں میں جو ترقی ہوئی ہے وہ مثالی ہے۔ نگران وفاقی وزیر نے چین میں تکنیکی اور تعلیمی اپ گریڈیشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم چین کی طرف دیکھتے ہیں تاکہ ان کی کامیابی کے راستے سے سیکھیں، پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط رشتہ ہے جس کی مثال سی پیک سے ملتی ہے۔ انہوں نے تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تبادلہ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق کے دائرہ کار کو بڑھانے اور وسیع کرنے کے لیے چین اور پاکستان کی یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ موہنجو دڑو، ٹیکسلا اور گندھارا کی تہذیب کی باقیات دنیا کی دو قدیم ترین تہذیبوں کے درمیان بدھ مت کے تبادلے کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے وفد کو تاریخی مقامات کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔مدد علی سندھی نے کہا کہ تعاون کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک ایم او یو پر دستخط کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں 30 ہزار سے زائد پاکستانی طلباء زیر تعلیم ہیں اور مزید تعاون کی گنجائش باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دوطرفہ تباد لوں کو تیز کریں اور ایک دوسرے کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ مدد علی سندھی نے ایچ ای سی اورنیوٹیک کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور ( ایکس پی سی سی ) کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج اور مستقبل کے مسائل کے حل کے لیے جدید اور فنی تعلیم ناگزیر ہے،ہمارے پاس وسیع زرعی صلاحیت ہے اور چینی تعاون سے ہم اپنے ملک میں موجود قدرتی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس موقع پر سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور کے ڈپٹی پولیٹیکل کمیسر، ڈپٹی پارٹی سیکرٹری لیو جیان منگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں جو مزید مضبوط ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستانی زراعت اور تکنیکی تعلیم کی جدید کاری میں تعاون کو بڑھانا ہے،ان کی تنظیم کے تحت دو یونیورسٹیاں اور 10 ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ ہیں اور وہ تعاون کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں میں زراعت، طبی اور ویٹنری کے شعبوں میں پہلے ہی 1800 پاکستانی طلباء زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے مہارت کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کی سطح پر فیکلٹی کی تربیت کے لیے تبادلہ پروگرام شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔