کابینہ نے ایف بی آر کی ری سٹرکچرنگ کی منظوری دیدی ، تنظیم نو سے ٹیکس فائلرز میں اضافہ ہو گا ڈیجیٹائزیشن سے ٹیکس لیکجز میں کمی آئے گی وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کا خطاب

Caretaker Federal Minister of Finance
Federal Finance Minister

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ایف بی آر کی ری سٹرکچرنگ کی منظوری دی ہے جس کی منظور کردہ اصلاحات کے تحت ریونیو ڈویژن میں ایک فیڈرل ٹیکس پالیسی بورڈ تشکیل دیا جائیگا۔ بورڈ قومی ٹیکس پالیسی کی تشکیل، ریونیو اہداف مقرر کرنے اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے عمل کو یقینی بنائے گا۔

منگل کو ایف بی آر کی تنظیم نو کے حوالے سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ سے ٹیکس نیٹ میں نہ آنے والے شعبہ جات بھی ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل ہونگے۔ ایف بی آر کی تنظیم نو سے کسٹم اور ان لینڈ ریونیو کے نظام میں بھی بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ری سٹرکچرنگ کررہے ہیں، کابینہ نے تنظیم نو کی منظوری دیدی ہے۔ ایف بی آر کی تنظیم نو سے بیرونی قرضوں میں کمی آئے گی اور ایسے اقدامات سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہو گا۔ایف بی آر اصلاحات سے معاشی نظام کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کی تنظیم نو سے ٹیکس فائلرز میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن نظام کے نفاذ سے ٹیکس لیکجز میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ فیڈرل ٹیکس پالیسی بورڈ کے چیئرمین جبکہ خزانہ، ریونیو،تجارت کے وفاقی سیکرٹریز، نادرا کے چیئرمین اور متعلقہ محکموں کے ماہرین بورڈ کے ارکان ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو کے محکموں کو الگ کیا جائیگا اور ڈائریکٹر جنرل ان کے سرپرست ہونگے۔ دونوں ڈی جیز کے پاس اپنے متعلقہ محکمے کے ادارہ جاتی، معاشی اور آپریشنل امور کا مکمل اختیار ہو گا، وہ ڈیجیٹائزیشن، شکایات کے حل اور شفافیت کے لئے بین الاقوامی طور پر اپنائے گئے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کے لئے الگ الگ نگرانی بورڈز ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے 30 آج ( جنوری کو )ایف بی آر کی تنظیم نو اور ڈیجیٹلائزیشن پلان کی منظوری دی ۔ستمبر 2023 سے اس پر کام شروع ہوا تھا۔

وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہاکہ ایف بی آر کی ری سٹرکچرنگ اورڈیجیٹائزیشن کے تحت پالیسی فنکشن کو پالیسی بورڈ چلائے گا جبکہ آپریشنل حصہ کوالگ کردیا جائیگا، اس سے ٹیکس ایڈمنسٹریشن میں بہتری آئیگی، اسی طرح کسٹمز اوران لینڈ ریونیو کو الگ کردیا جائیگا، یہ ڈی جیز کے تحت ہوگا، یہ عمل بین الاقوامی طریقہ کار کے عین مطابق ہے اور 73 فیصد ممالک میں ایسا ہورہاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ کسٹمز خدمات کو گلوبل ویلیوچین کے مساوی کردیا جائے اورسمگلنگ پر قابو پایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ ری سٹرکچرنگ کے تحت اوورسائیٹ کا نیاطریقہ کارمتعارف کرایا جا رہا ہے، اس مقصدکیلئے اورسائیٹ بورڈز بنائے جائیں گے جو کارپوریٹ گورننس بورڈ کی طرح ہوں گے اورسائیٹ بورڈ کی قیادت وزیرخزانہ کریں گے جبکہ سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری ریونیو، سیکرٹری تجارت اورچئیرمین نادرا اس کے ممبرہوں گے۔ پالیسی حصہ ڈی جی کسٹم اوران لینڈ ریونیو کور کریں گے۔فیڈرل پالیسی بورڈ کی قیادت وزیرخزانہ کریں گے۔ پالیسی بورڈ پالیسی اورحکمت عملی مرتب کرے گا۔ سیکرٹری ریونیو دونوں بورڈ میں شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ ری سٹرکچرنگ اورڈیجیٹائزیشن کے تحت ٹیکس پالیسی آفس کاقیام عمل میں لایاجائیگا،ٹیکس پالیسی ریونیو بورڈ کے تحت بنائی جائیگی جس میں مفادات کے ٹکرائو کامداوا ہوجائیگا۔اس سے ٹیکس کی بنیادمیں وسعت آئیگی، ٹیکس کے نظام میں جدت اورٹیکنالوجی کے استعمال سے محصولات اور مجموعی قومی پیداوارکے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا، آنیوالی حکومت کو اس سے فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ کل عمل درآمدکمیٹی کا قیام عمل میں لایاجائیگا، کمیٹی متعلقہ قوانین کا مسودہ اورانتظامی اقدامات کوحتمی شکل دے گی، ایف بی آر کے عملہ میں کوئی کمی نہیں آئیگی اوروہ سول سرونٹ رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ ایف بی آراصلاحات میں ایف بی آر کے افسران اورماہرین نے بھرپورتعاون فراہم کیاہے، ساراکام باہمی مشاورت سے آگے بڑھاہے۔ انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت میکرو اکنامک چیلنجز کو تسلیم کرتی ہے اور اس نے اہم اصلاحات کو ترجیح دی ہے۔