کاشتکاروں کو منتخب شدہ گوبھی کے پھول کی گندلیں 5سے9انچ لمبی ہونے پر جڑوں سمیت کھیت سے نکال کر زمین میں منتقل کرنے کامشورہ

Department of Agriculture
Department of Agriculture

فیصل آباد ۔ 24 نومبر (اے پی پی):کاشتکاروں کو منتخب شدہ گوبھی کے پھول کی گندلیں 5سے9انچ لمبی ہونے پر جڑوں سمیت کھیت سے نکال کر کھال کے قریب گہری تیار کردہ زمین میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہاگیاہے کہ پھول گوبھی ایک پسندیدہ سبزی ہے جسے ہر عمر کے لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں لہٰذا اگرکاشتکار سائنسی طریقہ سے پھول گوبھی کا بیج بنا ئیں تو باہر سے منگوائی گئی ہائی برڈ اقسام کے مقابلہ میں بہتر قسم کے بیج مقامی طورپر تیار اورملکی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔

محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر خالد محمودنے سبزیات کے ترقی پسند کاشتکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ پھول گوبھی تیار ہونے پر پہلی کٹائی کرتے وقت سارے کھیت کا عمومی مشاہدہ کریں اور ایک ایکڑ سے 150سے200تک اچھے پودے جن کے پھول بڑے، بغیر بُر، رنگت سفید، بیرونی پتے اوپر کو کھڑے اور اندرونی پتے اندر کی طرف مڑے ہوں ان کو منتخب کریں۔انہوں نے کہاکہ منتخب شدہ پودوں کو کھیت میں رہنے دیں اور باقی پھول تیار ہونے پر برداشت کرتے رہیں نیزگاچیاں نکالنے سے 15سے20دن پہلے گوبھی کی فصل کا پانی بند کر دیں۔

انہوں نے کہاکہ کاشتکار منتقلی کے وقت بیمار پتے اتار دیں اور باقی پتوں کوپھول کے ساتھ دھاگے سے لپیٹ دیں تاکہ گاچی بناتے وقت یہ پتے ٹوٹنے نہ پائیں۔ انہوں نے کہاکہ پھول گوبھی کے پودے کی منتقلی کے بعد دھاگوں کو کاٹ دیں اور اگیتی پھول گوبھی کی بیج والی فصل کو کورے سے بچاؤ کی خاطر شمال مغرب کی طرف سرکنڈے کا سایہ کریں اور کورا پڑنے کے دنوں میں فصل کو پانی لگائیں۔

انہوں نے کہاکہ کاشتکار پودوں کی منتقلی کے دوہفتہ بعدایک بوری ڈی اے پی کھادبحساب فی ایکڑ ڈال کر کم گہری گوڈی کے ساتھ پودوں کے گرد مٹی لگادیں اور بوقت ضرورت آبپاشی کرتے رہیں۔انہوں نے کہاکہ پھول گوبھی کی بیج والی فصل پر لشکری سنڈی اور تیلے حملہ آور ہوتے ہیں لہٰذا ان نقصان رساں کیڑوں کا حملہ ہونے کی صورت میں محکمہ زراعت توسیع و پیسٹ وارننگ کے مقامی عملہ کے مشورہ سے نئی کیمسٹر ی کی زہروں کا سپرے کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ بیج کیلئے منتخب کردہ پھولوں پر ہم مرکز دھبوں کی بیماری بھی حملہ آور ہوکر نقصان کا باعث بنتی ہے جس کے تدارک کیلئے مناسب پھپھوند کش زہر کا سپرے کرنا ضروری ہے۔