کپاس کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کاشتکاروں کی خوشحالی اورملکی معیشت میں استحکام کی ضامن ہے، سیکرٹری زراعت پنجاب

Cotton
Cotton

لاہور۔19ستمبر (اے پی پی):سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا ہے کہ ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں مجموعی طور پر57 ہزار ایکڑ جبکہ 8 ہزار ایکڑ پر پاور سپرئیرز کی مدد سے جدید کیمسٹری کی حامل زرعی زہروں کا سپرے کیا گیا جس سے سفید مکھی کے حملے میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے، محکمہ زراعت کی خصوصی ٹیمیں اس دوران کاشتکاروں کے شانہ بشانہ شریک رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل سے بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لئے اگلے ماہ تک کپاس کے علاقوں میں کاشتکاروں کے ٹیل اینڈ تک پانی کی فراہمی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدمات کئے جائیں۔سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب میں کپاس کی موجودہ صورتحال سے متعلق لاہور میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) ڈاکٹر اشتیاق حسن،ڈائریکٹر جنرل زراعت (پیسٹ وارننگ) پنجاب رانا فقیر حسین،ڈائریکٹر جنرل زرعی شماریات ڈاکٹر عبدالقیوم اور ڈائریکٹر زرعی اطلاعات پنجاب رائے مدثر عباس سمیت دیگر افسران شریک ہوئے جبکہ ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز،محکمہ آبپاشی کے افسران اورڈویژنل ڈائریکٹرز زراعت توسیع نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

بریفنگ کے دوران سیکرٹری زراعت کو بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں کپاس کی مجموعی حالت تسلی بخش ہے اور اگیتی فصل کی چنائی جاری ہے جبکہ موسمی فصل کی چنائی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔کاشتکاروں کو رواں ماہ کے دوران کپاس کی آبپاشی، نیوٹریشن اور پیسٹ مینجمنٹ سے متعلق راہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ امسال جنوبی پنجاب میں اب تک کپاس کی پیداوار گزشتہ سال کی نسبت دوگنی حاصل ہو رہی ہے۔ کپاس کی مارکیٹ مستحکم ہے اور کاشتکاروں کو بہتر ریٹ مل رہا ہے۔

سیکرٹری زراعت پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کے افسران کو کپاس کی فصل سے متعلق مسائل روزانہ کی بنیاد پر حل کرنے پر زور دیا تاکہ کپاس کے پیداواری ہدف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کپاس کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کاشتکاروں کی خوشحالی اورملکی معیشت میں استحکام کی ضامن ہے، اس لئے کپاس کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے لئے ضلعی انتظامیہ کے اعلی افسران اور تمام ڈویژنل ڈائریکٹرز اگلے ماہ کے آخر تک اس مہم کو قومی جذبے کے ساتھ سرانجام دیں۔