کینیڈا، پاکستانی نژاد خاندان کے سفید فام قاتل کو عمر قید

کینیڈا، پاکستانی نژاد خاندان کے سفید فام قاتل کو عمر قید

اوٹاوا۔23فروری (اے پی پی):کینیڈا میں 2021 میں پاکستانی نژاد مسلمان خاندان کے 4 افراد کو قتل کرنے والے سفید فام قوم پرست ملزم کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی، جس میں 25 سال تک پیرول کا کوئی امکان نہیں۔ انڈپنڈنٹ اردو کے مطابق 23 سالہ نیتھانیئل ویلٹ مین کو نومبر 2021 میں حملے کے لیے فرسٹ ڈگری قتل کا مجرم پایا گیا تھا ۔

مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے گزشتہ روز کہا کہ ویلٹ مین کا حملہ دہشت گردی کی کارروائی کی ہے۔ ملک میں پہلی بار یہ اصطلاح سفید فام قوم پرستی کے کسی بھی تشدد کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔ ویلٹ مین نے پاکستانی نژاد افضال خاندان کے4افراد کو صوبہ اونٹاریو کے شہر لندن میں اس وقت اپنے ٹرک کے نیچے کچل دیا تھا جب وہ جون 2021 میں شام کی سیر کے لیے نکلے تھے۔

اس واقعہ میں مارے جانے والوں میں 46 سالہ سلمان افضل، ان کی اہلیہ 44 سالہ مدیحہ سلمان، ان کی 15 سالہ بیٹی یمنیٰ اور افضل کی 74 سالہ والدہ طلعت شامل تھیں جبکہ حملے میں مارے جانے والے جوڑے کا نو سالہ بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ سلمان کی والدہ تابندہ بخاری نے عدالتی فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ اختتام ہے یا انصاف، لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس فیصلے سے ہمارے پیارے واپس نہیں آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ صرف ایک انفرادی فعل کے بارے میں نہیں تھا۔ یہ ہمارے معاشرے کے اندر گہرائی میں موجود فالٹ لائن کی واضح یاد دہانی تھی۔ مقدمے کی وکیل کراؤن اٹارنی سارہ شیخ نے اس فیصلے کے بارے میں کہا کہ ویلٹ مین نے ایک ’انفرادی گھناؤنے‘جرم کا ارتکاب کیا تھا، جس کا مقصد مجموعی طور پر مسلمانوں سے نفرت تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک آزاد اور جمہوری معاشرے میں ایک پوری کمیونٹی کے خلاف نفرت اور نظریاتی تشدد کو کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ 2017 میں کیوبیک سٹی کی ایک مسجد میں فائرنگ سے6افراد کی اموات کے بعد سے یہ کینیڈا میں مسلمانوں کے خلاف بدترین حملہ تھا۔