گندم کی زرد کنگی کی علامات اور کنٹرول بارے سفارشات جاری

Wheat crop
Wheat crop

لاہور۔26فروری (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت نے کہا ہے کہ گندم ہمارے ملک کی ایک اہم غذائی فصل ہے۔ صوبہ پنجاب میں گندم کی فصل اس وقت اپنے پیداواری مراحل سے گزر رہی ہے اور مجموعی حالت اچھی ہے۔ کاشتکارگندم کو دانہ بننے کی ابتدا یعنی دودھیا حالت پر پانی ضرور لگائیں۔یہ سٹے میں دانے بننے اور بھرنے کا وقت ہوتا ہے۔اگر اس مرحلے پر پانی نہ دیا جائے یا تاخیر سے دیا جائے تو دانے کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور پیداوار میں کمی واقع ہو جا تی ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ اس وقت زرد کنگی کا حملہ پنجاب کے بعض اضلاع میں مشاہدہ میں آیا ہے۔

گندم کی زرد کنگی کے پھیلا کیلئے موزوں درجہ حرارت10 تا20ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اس بیماری کا حملہ عام طور پر پتوں پر ہی ہوتا ہے جبکہ انتہائی شدید حملے کی صورت میں سٹے بھی متاثر ہوتے ہیں۔اس کی پہچان یہ ہے کہ پودے کے پتوں پر زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے متوازی قطاروں میں یا لائنوں میں صف بستہ ہوتے ہیں۔ وبائی حملے کی صورت میں اس کا نقصان بھوری کنگی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

شدید حملے کی صورت میں نقصان 20 تا 50 فیصد تک ہو سکتا ہے۔ فصل پر زردکنگی کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ سے سفارش کردہ زہروں کا سپرے کریں۔کنگی کا حملہ سب سے پہلے کھیت کے کچھ حصوں پر ٹکڑیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور پھر وہاں سے پورے کھیت میں پھیل جاتا ہے۔

لہذا باقاعدگی کے ساتھ اپنی فصل کا معائنہ کرتے رہیں۔ کنگی کے ظاہر ہوتے ہی صرف متاثرہ حصوں پر ہی محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ کے مشورہ سے مناسب پھپھوندی کش زہروں کا سپرے کریں اور سپرے سے قبل محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کو پیش نظر رکھیں۔بارش،آندھی اور تیز ہوا چلنے کی صورت میں سپرے سے گریز کریں۔