یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے ہمارے موقف کو امریکا نے اصولی طور پر نظر انداز کیاہے، روس

یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے ہمارے موقف کو امریکا نے اصولی طور پر نظر انداز کیاہے، روس

واشنگٹن ۔9اپریل (اے پی پی):امریکا میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے خلاف روس کے موقف کو امریکا نے اصولی طور پر نظر انداز کیا ہے۔تا س کے مطابق انہوں نے کہاکہ امریکی انتظامیہ نیٹو میں یوکرین کی ممکنہ رکنیت کو واضح طور پر مسترد کرنے کے بارے میں روس کے بیانات کو سننے سے اصولی طور پر انکار کرتی ہے۔

سفیر نے نوٹ کیا کہ امریکی حکام کی جانب سے نیٹو میں یوکرین کی رکنیت بارے بیانات کی تشہیر صرف اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ میدان جنگ میں روسی مسلح افواج کی غیر مشروط فتح ہمارے لیے واحد درست آپشن ہے۔انہوں نے کہاکہ نیٹو میں یوکرین کی شمولیت ہمارے لیے کسی بھی صورت میں ناقابل قبول ہے اور یہ روس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف روسی فیڈریشن کے بنیادی مفادات سے ناواقف سیاست دان ہی یہ توقع کر سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسے بلاک میں یوکرین کے الحاق کو قبول کر سکتے ہیں جو ہمارے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ ستمبر 2022 میں، یوکرین نے نیٹو میں شامل ہونے کے لیے تیز رفتاری سے درخواست دی، اور جولائی 2023 میں ولنیئس میں ہونے والے اتحاد کے سربراہی اجلاس میں یقین دہانی کرائی گئی کہ اس کے لیے ضروری شرائط پوری ہونے پر اسے قبول کیا جائے گا۔

برسلز میں اس کی نیٹو میں شمولیت کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی ہے۔اس وقت اس تنظیم میں 32 ممالک شامل ہیں، جن میں تقریباً تمام یورپی ممالک، کینیڈا، امریکہ اور ترکی شامل ہیں۔ بوسنیا اور ہرزیگوینا اتحاد میں نئے اراکین کو شامل کرنے کے پروگرام میں حصہ لے رہا ہے۔ نیٹو میں شامل ہونے کے لیے، ایک ملک کو انفرادی منصوبے کی شرائط پوری کرنی ہوں گی، کوئی علاقائی تنازعہ نہیں ہونا چاہیے، اور اپنی مسلح افواج کو اتحاد کے معیارات کے مطابق لانا چاہیے۔