اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) اور ریئلٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے آئندہ پاکستان سسٹین ایبلٹی سمٹ 2025 کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پائیدار رہائش ملک کی معاشی استحکام اور ماحولیاتی لچک کے لیے ناگزیر ہے۔سمٹ 3 دسمبر کو منعقد ہوگا جس کا موضوع "معاشی لچک اور موسمیاتی اسمارٹ طرزِ زندگی کے لیے پائیدار رہائش" …
آئی سی سی آئی اور ریئلٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا آئندہ پاکستان سسٹین ایبلٹی سمٹ 2025 کی بھرپور حمایت کا اظہار

مزید خبریں
اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) اور ریئلٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے آئندہ پاکستان سسٹین ایبلٹی سمٹ 2025 کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پائیدار رہائش ملک کی معاشی استحکام اور ماحولیاتی لچک کے لیے ناگزیر ہے۔سمٹ 3 دسمبر کو منعقد ہوگا جس کا موضوع "معاشی لچک اور موسمیاتی اسمارٹ طرزِ زندگی کے لیے پائیدار رہائش” رکھا گیا ہے۔
اس میں پالیسی ساز، ڈیولپرز، منصوبہ ساز، ماحولیات کے ماہرین اور نجی شعبے کے رہنما ملک گیر سطح پر موسمیاتی ذمہ دار شہری ترقی پر اظہارِ خیال کریں گے۔ہفتہ کو یہاں جاری بیان کے مطابق سمٹ کے بانی اور ڈیوکام پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید منیر احمد نے آئی سی سی آئی کے صدر اور ریئلٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سردار طاہر محمود سے ملاقات کی اور انہیں اس اقدام کے مقاصد اور قومی اہمیت سے آگاہ کیا۔ملاقات میں اس بڑھتی ہوئی ضرورت پر زور دیا گیا کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے پاکستانی شہروں کو ماحولیاتی طور پر ذمہ دار اور معاشی طور پر پائیدار رہائشی ماڈلز کی طرف فوری منتقلی کی ضرورت ہے۔

طاہر محمود نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے قومی معیشت کے کلیدی کردار ہونے کے باوجود اب پائیدار ترقیاتی اصولوں کے مطابق ڈھلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار رہائش کا براہِ راست تعلق معاشی لچک، موسمیاتی اسمارٹ طرزِ زندگی اور سماجی فلاح سے ہےاور بتایا کہ آئی سی سی آئی اور ریئلٹرز ایسوسی ایشن ملک بھر میں اپنے اراکین کو سمٹ کے ایجنڈے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متحرک کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی توانائی لاگت، پانی کی کمی، موسمیاتی خطرات اور بے ہنگم شہری پھیلاؤ نے رہائشی شعبے کے لیے بے مثال چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کم کاربن تعمیرات، قابل تجدید توانائی کے حل، گرین بلڈنگ معیارات اور زمین کے مؤثر استعمال کی منصوبہ بندی اپنانا ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔
منیر احمد نے اس حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروباری اور رئیل اسٹیٹ کمیونٹی کی جانب سے ایک مضبوط پیغام ہے۔یہ سمٹ صرف ایک کانفرنس نہیں بلکہ ہماری رہائش، شہروں اور کمیونٹیز کی تعمیر نو کے ایک بڑے قومی عمل کا آغاز ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پائیدار رہائش موسمیاتی لچک، عوامی صحت اور طویل المدتی معاشی بحالی کی بنیاد ہے۔
سرکاری اعلیٰ حکام پہلے ہی بطور کلیدی مقرر اپنی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں جن میں وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ وِنگ کے ڈائریکٹر جنرل وسیم حیات بجوہ، پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PIDCL) کے سی ای او اور پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن کے سی ای او شامل ہیں۔معماری، شہری منصوبہ بندی، قابلِ تجدید توانائی، پانی کے انتظام، مالیات اور موسمیاتی موافقت کے ماہرین بھی مباحثوں میں حصہ لیں گے۔
سمٹ کا مقصد اپنے سفارشات کو قومی ترقیاتی حکمتِ عملیوں اور عالمی وعدوں جیسے کہ پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز)، پیرس معاہدہ اور پاکستان کے موسمیاتی و شہری ترقیاتی اہداف کے مطابق ڈھالنا ہے۔اہم موضوعات میں موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر، کم کاربن رہائش، نیٹ زیرو عمارتیں، سرکلر کنسٹرکشن، ماحول دوست تعمیراتی مواد، اسمارٹ سٹیز اور پائیدار مالیاتی ماڈلز شامل ہیں۔
ڈیوکام پاکستان نے کہا کہ سمٹ حکومتی اداروں، کاروباری طبقے، اکیڈیمیا، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان پالیسی سطح پر مؤثر مشاورت اور شراکت داری کے لیے طویل المدتی پلیٹ فارم کا کام کرے گا۔منیر احمد نے کہا کہ یہ تقریب نہ صرف چیلنجز کو اجاگر کرے گی بلکہ سبز، محفوظ اور زیادہ لچکدار رہائشی نظاموں کے لیے قابلِ عمل حل بھی سامنے لائے گی۔پاکستان سسٹین ایبلٹی سمٹ 2025 پائیدار شہری ترقی کے قومی بیانیے کی تشکیل میں ایک اہم فورم کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔






