انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے چین کی ژنہوا نیوز ایجنسی کے تعاون سے اسلام آباد میں ’’دوستی کے 75 سال: عالمی طرز حکمرانی کے اقدام اور سی پیک میں چین اور پاکستان کی مشترکہ خدمات‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا
انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام ’’دوستی کے 75 سال: عالمی طرز حکمرانی کے اقدام اور سی پیک میں چین اور پاکستان کی مشترکہ خدمات‘‘ کے عنوان سے سیمینار

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے چین کی ژنہوا نیوز ایجنسی کے تعاون سے اسلام آباد میں ’’دوستی کے 75 سال: عالمی طرز حکمرانی کے اقدام اور سی پیک میں چین اور پاکستان کی مشترکہ خدمات‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ منگل کو یہاں جاری بیان کے مطابق سیمینار میں وفاقی وزراء، سینئر سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، میڈیا نمائندوں اور پاکستان اور چین سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے اور ہر موسم کی تذویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کے ارتقائی سفر کا جائزہ لیا گیا۔ اپنے ویڈیو پیغام میں ژنہوا نیوز ایجنسی کے صدر فو ہوا نے پاکستان اور چین کو سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی اور دونوں ممالک کے درمیان ہمہ موسمی تذویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی پائیدار مضبوطی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور باہمی اعتماد، یکجہتی اور مشترکہ مفادات پر مبنی ریاستی تعلقات کی ایک زبردست مثال قائم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے وژن کے مطابق عالمی طرز حکمرانی کا اقدام (جی جی آئی) ایک زیادہ منصفانہ اور جامع عالمی نظام کے قیام کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے سی پیک کو ان اصولوں کا عملی مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، رابطہ سازی، توانائی کے شعبے میں تعاون اور علاقائی خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے باہمی تفہیم اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے میں میڈیا اور تھنک ٹینکس کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔ آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین خالد محمود نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاک چین تعلقات کو باہمی اعتماد، خودمختار برابری اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی مسلسل حمایت پر مبنی ہمہ موسمی تذویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری علاقائی امن و استحکام کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ انہوں نے سی پیک کو بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کا ایک نمایاں منصوبہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی توانائی سلامتی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور رابطہ سازی میں اس کی نمایاں خدمات کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، زرعی جدت، خصوصی اقتصادی زونز، ماحول دوست ترقی، جدت طرازی اور عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اپنے خطاب میں پاک چین تعلقات کو اعتماد اور باہمی تعاون پر مبنی ایک منفرد اور مثالی تذویراتی شراکت داری قرار دیا۔ انہوں نے سی پیک کو اس دوستی کا سب سے نمایاں مظہر اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی تبدیلی کا ایک اہم محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے نے توانائی کے تحفظ، بنیادی ڈھانچے کی جدت اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے سی پیک فیز ٹو کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت پانچ تذویراتی راہداریوں یعنی ترقی، روزگار و معاش، جدت طرازی، ماحول دوست ترقی اور علاقائی رابطہ سازی پر توجہ دی جا رہی ہے جبکہ اعلیٰ معیار اور جامع ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے اپنے کلیدی خطاب میں پاک چین تعلقات کو ’’آہنی دوستی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رشتہ باہمی اعتماد، مشترکہ امنگوں اور نسل در نسل غیر متزلزل حمایت پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات ایک مثالی شراکت داری کی شکل اختیار کرچکے ہیں جو مسلسل وسعت اور اہمیت حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے سی پیک کو ایک انقلابی منصوبہ قرار دیا جو رابطہ سازی، ترقی اور خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے ثقافتی تبادلوں، میڈیا تعاون اور عوامی روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے اپنے خطاب میں سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کو دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور اعلیٰ سطحی تبادلوں اور بڑھتے ہوئے تذویراتی اعتماد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک بدستور بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کا مرکزی ستون ہے اور توانائی، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اب اعلیٰ معیار کی ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جس کے تحت زراعت، صنعت، کان کنی، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں میں تعاون کو وسعت دی جارہی ہے۔
انہوں نے کثیرالجہتی نظام، خودمختار برابری اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی طرز حکمرانی کے اصولوں سے چین کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ سیمینار میں ’’شی جن پنگ کی قیادت میں چین کا نظام حکمرانی‘‘ کے (انگریزی ایڈیشن) کے عنوان سے کتاب کی رونمائی بھی کی گئی جس میں چین کے حکمرانی کے تجربات اور ترقیاتی سفر کو اجاگر کیا گیا ہے۔ پہلے موضوعاتی اجلاس کی صدارت چین میں پاکستان کی سابق سفیر نغمانہ ہاشمی نے کی۔ اجلاس میں عالمی طرز حکمرانی کے اقدام اور سی پیک فیز ٹو کے فروغ میں پاک چین تعاون پر گفتگو کی گئی۔ مقررین نے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں جامع عالمی حکمرانی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک رابطہ سازی، صنعتی تعاون، جدت طرازی، ماحول دوست ترقی اور روزگار و معاش کے فروغ کے ذریعے ان اصولوں کو عملی شکل دے رہا ہے۔ شرکا ءنے بحث کے دوران اس امر پر زور دیا کہ اقتصادی تعاون کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کے لیے مہارتوں کی ترقی، تعلیم اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ کو یقینی بنایا جائے
جبکہ میڈیا بیانیے اور پالیسی ہم آہنگی کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت ژنہوا نیوز ایجنسی کے اسلام آباد بیورو کے سربراہ تانگ بن ہوئی نے کی۔ اجلاس کا موضوع ’’پاکستان اور چین کے نوجوان ٹیلنٹس کی سی پیک کہانیاں‘‘ تھا۔ اس نشست میں سی پیک کے انسانی اور عوامی روابط کے پہلو کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے انفراسٹرکچر اور توانائی منصوبوں میں طویل المدتی عملی شمولیت، تعلیمی تبادلوں اور پاک چین تعاون کے ذریعے پیشہ ورانہ ترقی کے ذاتی تجربات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف اقتصادی رابطہ کا فریم ورک نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان اعتماد، ثقافتی ہم آہنگی اور دیرپا تعلقات کو فروغ دینے والا ایک مضبوط پل بھی ہے۔سیمینار کے اختتام پر پاک چین دوستی کے پائیدار رشتے کی توثیق کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کی ترقی، علاقائی رابطہ سازی کے فروغ اور ایک زیادہ جامع اور منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سی پیک کی مسلسل پیش رفت اور عالمی طرز حکمرانی کے اقدامات کے تحت تعاون دونوں ممالک کی ہر موسم کی تذویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا اور علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔








