اکادمی ادبیات پاکستان کے 50سال مکمل ہونے کی مناسبت سے خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ کے اجرا ءکی تقریب

اکادمی ادبیات پاکستان کے منگل9 جون 2026ء کو 50سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ کے اجرا ءکی تقریب

اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):اکادمی ادبیات پاکستان کے منگل9 جون 2026ء کو 50سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ کے اجرا ءکی تقریب شیخ ایاز کانفرنس ہال، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی تھے۔

اس موقع پر انہوں نے راولپنڈی اسلام آباد کے نامور ادبا کی معیت میں اکادمی کے 50سالہ ادبی سفر کی یاد میں یادگاری ڈاک ٹکٹ کی باضابطہ نقاب کشائی کی۔تقریب میں اکادمی ادبیات پاکستان کی صدرنشین پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف، سابق سربراہان افتخار عارف، عبد الحمید، پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو اور پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید سمیت ممتاز ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور اہلِ قلم نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہواجبکہ معروف نعت خواں اقدس ہاشمی نےنعت رسول مقبول ﷺ پیش کی جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں ایک مختصر مگر پروقار نشست منعقد ہوئی جس میں سابق صدور اکادمی اور دیگر معزز مہمانان نے اظہار خیال کیا۔اپنے استقبالیہ خطاب میں پروفیسرڈاکٹر نجیبہ عارف نے اکادمی کے 50سالہ سفر اور خدمات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے قومی زبانوں اور پاکستانی ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے سابق سربراہان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ادب قومی یکجہتی، فکری ہم آہنگی اور ثقافتی رابطوں کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے بین الصوبائی اقامتی منصوبہ، مستحق ادباکی مالی معاونت، علاقائی ادبی اداروں کی سرپرستی، ماہانہ وظائف، صوبائی کانفرنسوں، میوزیم کی تزئین و آرائش، لینگویج میوزیم، مخطوطات کے تحفظ اور دیگر جاری منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے اکادمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ ادارے کے فنڈز کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پچاسویں سالگرہ کے سلسلے میں مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس بین الاقوامی حالات کے باعث مؤخر ہوئی تاہم حالات سازگار ہوتے ہی اس کا انعقاد کیا جائے گا۔انہوں نے مستحق ادباء کے ماہانہ اعزازیے کو 13 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ میں اس پر عملدرآمد ہوگا۔انہوں نے اکادمی میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے اور ملازمین کے مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ڈاکٹر اصغر ندیم سیدنے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے اہم اور مؤثر ادبی کردار کو سراہا۔انہوں نے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ماضی میں اکادمی کے تحت مختلف دوست ممالک کے ساتھ رائٹرز ایکسچینج پروگرام باقاعدگی سے جاری تھا جو ایک عرصے سے معطل ہے۔انہوں نے اس پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔سابق چیئرمین افتخار عارف نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان نے مختلف زبانوں کے ادباء کو ایک قومی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے اور یہ ادارہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ادبی اداروں کے ہم پلہ ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے اکادمی کو ملکی ادبی شناخت کا اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقی، اشاعتی اور تراجم کی خدمات کو سراہا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا کہ اکادمی نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں ادب و ثقافت کے فروغ اور نئی نسل کو ادب سے جوڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اکادمی کی مزید ترقی اور مؤثر کارکردگی کے لئے افرادی قوت میں اضافہ اور ادبی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینا ضروری ہے۔ تقریب کے اختتام پرپروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے مہمانِ خصوصی اور دیگر معزز شرکاء کو یادگاری ڈاک ٹکٹ پرمبنی تخائف پیش کئے۔