تعلیم ہی معاشرے میں حقیقی برابری اور قومی ترقی کی بنیاد ہے، نوجوان عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرکے پاکستان کی تعمیر میں کردار ادا کریں: سپیکر پنجاب اسمبلی

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ تعلیم وہ واحد طاقت ہے جو معاشرے کے مختلف طبقات کو برابری کی سطح پر لا سکتی ہے اور ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

لاہور۔9جون (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ تعلیم وہ واحد طاقت ہے جو معاشرے کے مختلف طبقات کو برابری کی سطح پر لا سکتی ہے اور ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید دنیا میں علم، تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی ہی اقوام کی ترقی کا بنیادی پیمانہ ہیں، لہذا نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم اور جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں منعقدہ ملائیشیا ڈیسٹینیشن لانچ ایونٹ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں آئی ڈی پی ایجوکیشن پاکستان کے ایریا ڈائریکٹر ہمایوں بن اکرم، ملائیشیا کی معروف جامعات کے نمائندگان، وائس چانسلرز، سینئر ماہرین تعلیم، اسکول پرنسپلز، کونسلرز اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے آئی ڈی پی ایجوکیشن کو ملائیشیا کو نئے اسٹریٹجک اسٹڈی ڈیسٹینیشن کے طور پر متعارف کرانے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تعلیمی مواقع پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک تعلیم صرف ڈگری کا حصول نہیں بلکہ قیادت، تنقیدی سوچ، تحقیق، اختراعی صلاحیت اور عالمی وژن کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے تو پرائمری اور مڈل اسکولوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اسٹیٹ آف دی آرٹ تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنا ہوگا، جہاں ہر بچے کو یکساں معیار کی تعلیم اور جدید سہولیات میسر ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ اپنے بچوں کی تعلیم پر ہفتہ وار ہزاروں روپے خرچ کرتا ہے جبکہ آبادی کے ایک بڑے حصے کے بچوں پر سالانہ نہایت محدود وسائل صرف کیے جاتے ہیں، جس کے باعث تعلیمی عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کا ایک محدود طبقہ بہترین تعلیمی سہولیات سے مستفید ہوتا ہے جبکہ اکثریتی بچوں کو بنیادی تعلیمی وسائل بھی میسر نہیں۔ ایسے حالات میں مختلف معاشی پس منظر رکھنے والے طلبہ کے درمیان اعلی پیشہ ورانہ شعبوں، خصوصا میڈیکل اور دیگر مسابقتی شعبوں میں یکساں میرٹ کی توقع کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں، جو قومی ترقی کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت، پارلیمنٹ، تعلیمی ادارے، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائیں۔ ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ ملائیشیا کم لاگت، عالمی معیار کی تعلیم، انگریزی ذریعہ تدریس، محفوظ ماحول اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی نظام کے باعث ایشیا کے نمایاں تعلیمی مراکز میں شامل ہو چکا ہے، جہاں پاکستانی طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انوویشن، تحقیق اور جدید علوم کے وسیع مواقع موجود ہیں۔سپیکر نے پاکستان کی ان جامعات کو بھی سراہا جو بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے بیرونی ڈگری پروگرامز ملک کے اندر فراہم کر رہی ہیں اور تجویز دی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت ایسے پروگرامز کے لیے مزید اسکالرشپس فراہم کریں تاکہ مالی وسائل کسی باصلاحیت طالب علم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔اپنے اختتامی کلمات میں انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک تعلیم کا اصل مقصد عالمی علم، جدید تحقیق اور بین الاقوامی تجربات کو پاکستان منتقل کرنا ہے۔ سپیکر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آئیں اور اپنی صلاحیتوں، مہارتوں اور تجربات کو پاکستان کی معاشی، تعلیمی اور سماجی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم سب کو مل کر پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے، تعلیمی مساوات کو فروغ دینے اور ہر بچے کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کی مشترکہ کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔

مزید خبریں