جامع مشترکہ ایکشن پلان پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک تعاون کو نئے مواقع سے روشناس کرے گا،رشید صافی

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):سینئر تجزیہ کار اور پاک چین امور کے ماہر رشید صافی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان 2025 تا 2029 کے لیے جاری ہونے والا جامع مشترکہ ایکشن پلان دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعاون کو نئے مواقع سے روشناس کرے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے کی معاشی اور جغرافیائی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔پیر کو اے پی پی …

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):سینئر تجزیہ کار اور پاک چین امور کے ماہر رشید صافی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان 2025 تا 2029 کے لیے جاری ہونے والا جامع مشترکہ ایکشن پلان دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعاون کو نئے مواقع سے روشناس کرے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے کی معاشی اور جغرافیائی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔پیر کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس مشترکہ ایکشن پلان میں سیاسی اعتماد کے فروغ، اقتصادی شراکت داری کے استحکام، سکیورٹی تعاون کے فروغ اور عوامی روابط میں اضافے کے لیے واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

منصوبے کا مقصد پاک چین دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے باہمی تعاون کو عملی شکل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 سے 2029 تک کا یہ فریم ورک دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور عملی شراکت داری کو مضبوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔رشید صافی کے مطابق سیاسی سطح پر اعلیٰ سطحی رابطوں میں اضافہ، پالیسی ہم آہنگی اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر قریبی مشاورت کو اس ایکشن پلان میں بنیادی ترجیح دی گئی ہے۔ اقتصادی محاذ پر سی پیک کے تحت جاری اور نئے فیز کے منصوبوں میں رفتار لانے، صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تجارتی توازن میں بہتری کے لیے ٹھوس اہداف متعین کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی تعاون کے حوالے سے انسدادِ دہشت گردی، بارڈر مینجمنٹ، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی تعاون کے موجودہ میکنزم کو وسعت دی جائے گی، جس سے خطے میں امن اور استحکام کے لیے دونوں ممالک کی کوششیں مزید مؤثر ہوں گی۔رشید صافی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی روابط جس میں تعلیمی تبادلے، ثقافتی سرگرمیاں، سیاحت اور میڈیا تعاون شامل ہے،پاکستان اور چین کے درمیان دیرپا تعلقات کی بنیاد ہیں اور ایکشن پلان میں انہیں ایک جامع حکمتِ عملی کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جامع ایکشن پلان نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں تعاون، رابطہ کاری اور پائیدار ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔