خواتین یونیورسٹی ملتان کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اینڈ آئی ٹی کے زیر اہتمام جناح ہال کچہری کیمپس میں "ٹیک ایکسپو 2026” کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں طالبات کی جانب سے تیار کردہ جدید، تحقیقی اور تخلیقی نوعیت کے فائنل ایئر پراجیکٹس کی شاندار نمائش کی گئی
خواتین یونیورسٹی میں ٹیک ایکسپو 2026 کا انعقاد

مزید خبریں
ملتان۔ 09 جون (اے پی پی):خواتین یونیورسٹی ملتان کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اینڈ آئی ٹی کے زیر اہتمام جناح ہال کچہری کیمپس میں "ٹیک ایکسپو 2026” کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں طالبات کی جانب سے تیار کردہ جدید، تحقیقی اور تخلیقی نوعیت کے فائنل ایئر پراجیکٹس کی شاندار نمائش کی گئی۔ منگل کو منعقدہ ایکسپو میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سائبر سکیورٹی، ویب اینڈ موبائل ڈیویلپمنٹ، ایمبیڈڈ سسٹمز، ڈیٹا سائنس اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق 42 جدید منصوبے پیش کیے گئے جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔تقریب کی مہمانِ خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول تھیں جبکہ رجسٹرار ڈاکٹر دیبا، چیئرپرسن شعبہ کمپیوٹر سائنس اینڈ آئی ٹی ڈاکٹر خدیجہ کنول، فیکلٹی ممبران، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، اساتذہ اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی فوکل پرسن ڈاکٹر خدیجہ کنول جبکہ کوآرڈینیٹرز مس ہمیرہ بتول اور مس فریحہ ذوالفقار تھیں۔استقبالیہ خطاب میں ڈاکٹر خدیجہ کنول نے کہا کہ ٹیک ایکسپو کا مقصد طالبات کی فنی مہارتوں، تحقیقی صلاحیتوں اور اختراعی سوچ کو اجاگر کرنا اور انہیں جدید صنعتی و تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی ترقی اور معاشی استحکام کی بنیاد بن چکی ہے اور یونیورسٹی طالبات کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید تربیت فراہم کر رہی ہے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول نے مختلف سٹالز کا دورہ کیا اور طالبات کے پراجیکٹس میں گہری دلچسپی لیتے ہوئے ان کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا کردارجدید ٹیکنالو جی کے میدان میں انتہائی اہم ہے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈیٹا سائنس اور دیگر جدید علوم مستقبل کی دنیا کی تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ٹیک ایکسپو میں نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس، نمل، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ایم این ایس یو ای ٹی اور محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر کےطلبہ وطالبات نے بھی شرکت کی۔ تقریب کےاختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔








