رواں سال ایشیا اوربحرالکاہل خط میں نموکی شرح 5.1فیصدتک رہنے کاامکان ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک نے رواں سال ایشیا اوربحرالکاہل کے خطے میں نموکی شرح 5.1فیصدتک رہنے کی پیشنگوئی کی ہے۔یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ایشین ڈویلپمنٹ آئوٹ لک کے نام سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ۔ بینک نے رواں اور آئندہ سال کے لیے ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کی معیشتوں کے لیے اپنے ترقی کے اندازوں کو بڑھا دیا ہے جس کی …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک نے رواں سال ایشیا اوربحرالکاہل کے خطے میں نموکی شرح 5.1فیصدتک رہنے کی پیشنگوئی کی ہے۔یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ایشین ڈویلپمنٹ آئوٹ لک کے نام سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ۔

بینک نے رواں اور آئندہ سال کے لیے ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کی معیشتوں کے لیے اپنے ترقی کے اندازوں کو بڑھا دیا ہے جس کی وجہ مضبوط برآمدات اور کئی تجارتی معاہدوں کے بعد تجارتی غیر یقینی صورتحال میں کمی ہے، ان میں سے کئی معاہدے امریکا کے ساتھ ہوئے ہیں۔چپ اور دیگر ٹیکنالوجی مصنوعات کی برآمدات، افراطِ زر میں کمی اور مالی استحکام نے خطے کے ترقی کے منظرنامے کو مستحکم کیا ہے جس سے رواں سال متوقع معاشی ترقی 5.1 فیصد رہنے کاامکان ظاہر کیا گیا ہے جو ستمبر کے 4.8 فیصد کے پیشگی اندازے سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی تجارتی ماحول گزشتہ سال کے دوران تاریخی سطح کی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہا تاہم اس کے باوجود ایشیا اور بحرالکاہل کی مضبوط اقتصادی بنیادیں مضبوط برآمدی کارکردگی اور مستحکم ترقی برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ بینک کے چیف اکانومسٹ البرٹ پارک نے بتایاکہ تجارتی معاہدوں نے غیر یقینی صورتحال کچھ حد تک کم کی ہے لیکن بیرونی اور دیگر چیلنجز اب بھی منظرنامے پر اثر ڈال سکتے ہیں، خطے کی حکومتوں کو کھلے تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع کی حمایت جاری رکھنی چاہیے تاکہ لچک اور ترقی کو برقرار رکھا جا سکے۔ مضبوط برآمدات اور جاری مالیاتی ترغیبات کی وجہ سے چین کے لیے رواں سال کی ترقی کی پیش گوئی کو 4.8 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے جو پہلے 4.7 فیصد تھی ، 2026 کے لیے پیش گوئی 4.3 فیصد پر جوں کی توں ہے۔

مضبوط عوامی سرمایہ کاری، بڑھتی ترسیلات زر اور مستحکم اندرونی طلب کی بدولت کاکیشیا اور وسطی ایشیا کے ذیلی علاقے کے لیے اس سال کے لیے ترقی کی پیش گوئی 5.8 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے جو پہلے 5.5 فیصد تھی ۔جنوبی ایشیا کے لیے اس سال کی ترقی کی پیش گوئی 0.2 فیصد بڑھا کر 4.5 فیصد کر دی گئی ہے جو انڈونیشیا، ملائشیا، سنگاپور اور ویتنام میں تیسری سہ ماہی کی مضبوط کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے، بحرالکاہل کے لیے پیش گوئیاں رواں اور آئندہ سال کے لیے بدستور 4.1 فیصد اور 3.4 فیصد ہیں۔ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل میں افراطِ زر کی شرح رواں سال مزید کم ہو کر 1.6 فیصد ہو جائے گی جو ستمبر میں پیش کی گئی 1.7 فیصد کی پیش گوئی سے کم ہے۔