ریسکیو 1122 کے زیرِ اہتمام جامع اور بھرپور فلڈ موک ایکسرسائز کا انعقاد

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا کی زیرِ نگرانی متوقع سیلابی سیزن 2026 کے پیش نظر ضلعی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ریسکیو 1122 کے زیرِ اہتمام ایک جامع اور بھرپور فلڈ موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا۔

قصور۔ 09 جون (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا کی زیرِ نگرانی متوقع سیلابی سیزن 2026 کے پیش نظر ضلعی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ریسکیو 1122 کے زیرِ اہتمام ایک جامع اور بھرپور فلڈ موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا۔ مشق کا بنیادی مقصد ممکنہ ہنگامی صورتحال میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ، فوری ردِعمل اور امدادی حکمتِ عملی کو موثر انداز میں جانچنا تھا۔

اس مشترکہ مشق میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سید ایوب بخاری، پاک آرمی، رینجرز، پاک نیوی، اے سی قصورثاقب ترازی، ریسکیو 1122،سول ڈیفنس، پولیس، محکمہ تعلیم، محکمہ انہار، واپڈا، واسا، لائیو سٹاک سمیت دیگر متعلقہ ضلعی اداروں نے بھرپور شرکت کی اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا عملی مظاہرہ کیا۔ تمام محکموں کی جانب سے پنڈال میں خصوصی ریلیف کیمپس اور معلوماتی اسٹالز قائم کیے گئے، جہاں سیلاب کے دوران استعمال ہونے والے امدادی آلات، ریسکیو سروسز، طبی سہولیات اور عوامی مدد کے انتظامات کو نمایاں کیا گیا۔

اس موقع پر مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا نے تمام محکموں کے قائم کردہ کیمپس کا تفصیلی معائنہ کیا اور متعلقہ افسران سے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات پر بریفنگ لی۔ انہوں نے ریسکیو 1122 کی پیشہ ورانہ تیاریوں، جدید آلات اور ادارہ جاتی کوآرڈینیشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ڈپٹی کمشنر قصور نے اپنے خطاب میں کہا کہ قدرتی آفات، بالخصوص سیلاب سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت تیاری انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ اداروں کو درکار وسائل کی بروقت فراہمی کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی مشقیں نہ صرف اداروں کی استعدادِ کار کو بہتر بناتی ہیں بلکہ ہنگامی حالات میں فوری اور موثر ردِعمل کو بھی یقینی بناتی ہیں، جس سے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے