زرعی ملک ہونے کے باوجود خوراک کی صورتحال بارے چیلنجز درپیش ہیں، شاہد عمران

لاہور۔14دسمبر (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل سٹینڈنگ کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں خوراک کی صورتحال، دستیابی،رسائی اور غذائیت سے متعلق متعدد چیلنجز درپیش ہیں، پاکستان بڑی غذائی فصلیں پیدا کرتا ہے تاہم انفراسٹرکچر کی کمی، مناسب سپلائی چینز کی عدم موجودگی اور خوراک ضائع ہونے کہ وجہ سے خاص طور …

لاہور۔14دسمبر (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل سٹینڈنگ کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں خوراک کی صورتحال، دستیابی،رسائی اور غذائیت سے متعلق متعدد چیلنجز درپیش ہیں، پاکستان بڑی غذائی فصلیں پیدا کرتا ہے تاہم انفراسٹرکچر کی کمی، مناسب سپلائی چینز کی عدم موجودگی اور خوراک ضائع ہونے کہ وجہ سے خاص طور پر دیہی و پسماندہ علاقوں میں خوراک تک رسائی محدود ہے۔

اتوار کو یہاں فیملی فوڈ پراڈکٹس کے تعاون سے پاکستان میں غذائی تحفظ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زراعت ہمارا ایک اہم شعبہ اور ہم گندم، چاول، گنا و کپاس سمیت بڑی فصلیں پیدا کرتے ہیں، اس کے باوجود، غذائی عدم تحفظ باعث تشویش اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق تقریبا36.9 فیصد آبادی متاثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوراک کی پیداوار اور تقسیم کے درمیان عدم توازن ایک بڑا چیلنج ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب اور خشک سالی جیسی قدرتی آفات تیزی سے بڑھ رہی ہیں ،ان سے زرعی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے جس کا نتیجہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔

سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی چوہدری زاہد اقبال آرائیں نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غذائی عدم تحفظ کی ایک بڑی وجہ غربت ہے کیونکہ بہت سے گھرانے غذائیت سے بھرپور خوراک کے متحمل نہیں ہوسکتے، جس کی وجہ سے خاص طور پر بچوں میں غذائیت کی کمی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بچوں میں غذائی قلت کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے، جہاں خوراک کی عدم دستیابی، بچوں میں غذائیت کی کمی اور خوراک ضائع ہونے کی شکایات عام ہیں۔