اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتے ہی پاکستان اور چین نے معاشی، تجارتی، صنعتی اور تکنیکی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے چار سالہ ایکشن پلان 2025–2029 پر پیش رفت تیز کر دی ہے۔ اس مرحلے میں سی پیک کی پانچ راہداریوں ترقی، روزگار، اختراع، ماحولیات اور کھلے پن کو پاکستان کے قومی ترقیاتی پروگرام "5Es" کے ساتھ مکمل طور …
سی پیک فیز ٹو،پاکستان اور چین ایکشن پلان تعاون، ترقی اور خطے کی خوشحالی کا نیا سنگِ میل

مزید خبریں
اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتے ہی پاکستان اور چین نے معاشی، تجارتی، صنعتی اور تکنیکی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے چار سالہ ایکشن پلان 2025–2029 پر پیش رفت تیز کر دی ہے۔ اس مرحلے میں سی پیک کی پانچ راہداریوں ترقی، روزگار، اختراع، ماحولیات اور کھلے پن کو پاکستان کے قومی ترقیاتی پروگرام "5Es” کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایکشن پلان کے تحت خصوصی اقتصادی زونز میں صنعتی ترقی، زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، بحری معیشت کی مضبوطی، تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش اور گوادر بندرگاہ کو علاقائی ٹرانزٹ ہب بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔ان اقدامات کا مقصد پاکستان کی صنعتی بنیاد کو مضبوط کرنا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔سی پیک فیز ٹو میں دو بڑے منصوبوں ایم ایل ون ریلوے اپ گریڈیشن اور قراقرم ہائی وے کی بہتری کو ترجیح حاصل ہے۔
ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان زمینی روابط مضبوط ہوں گے اور خطے میں تجارت اور نقل و حرکت کی رفتار بڑھے گی۔ایکشن پلان کے تحت کسٹمز، پوسٹل، ایوی ایشن، اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی سسٹمز کو جدید ترین عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، تاکہ تجارت اور لاجسٹکس میں شفافیت، رفتار اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، انسانی وسائل اور ہائی ٹیک انوویشن میں بھی تعاون میں اضافہ طے پایا ہے۔سی پیک فیز ٹو میں نجی شعبے کا کردار نمایاں ہے۔
حالیہ پاکستان چین بزنس کانفرنس میں1,000 سے زائد کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔3,000 سے زیادہ بزنس ٹو بزنس ( B2B )ملاقاتیں منعقد ہوئیں یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے نے اتنے بڑے پیمانے پر براہ راست کاروباری روابط قائم کیے۔پاکستانی مصنوعات کی چین تک رسائی بڑھانے اور برآمدات کو وسعت دینے کے لیے ایک خصوصی ایکسپورٹ ورکنگ گروپ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت مزید تجارتی سہولیات، سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری وفود کے تبادلوں اور مشترکہ صنعتی منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ دونوں ممالک نے معیشت، ٹیکنالوجی اور مین پاور کے شعبوں میں مستقبل کی ضروریات کے مطابق نئے تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے۔سی پیک فیز ٹو پاکستان کی معیشت کے استحکام، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے بنیادی ستون ثابت ہوگا۔ پاکستان چین کے ساتھ اس تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔








