لاہور۔30نومبر (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ جن ممالک کی فیشن انڈسٹری برانڈنگ، دستکاری اور ٹرینڈ سیٹنگ میں ترقی یافتہ ہے، وہ برآمدات کی مد میں اربوں ڈالر کماتے ہیں۔ اتوار کو یہاں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (پی آئی ایف ڈی) کے زیر اہتمام پہلی بین الاقوامی ڈیزائن کانفرنس 2025 کا افتتاح کرتے ہوئے فیشن اور عالمی تجارت …
قومی برانڈ مضبوط بنا کر ڈیزائن کی عالمی قدر میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے، میاں کاشف اشفاق
لاہور۔30نومبر (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ جن ممالک کی فیشن انڈسٹری برانڈنگ، دستکاری اور ٹرینڈ سیٹنگ میں ترقی یافتہ ہے، وہ برآمدات کی مد میں اربوں ڈالر کماتے ہیں۔ اتوار کو یہاں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (پی آئی ایف ڈی) کے زیر اہتمام پہلی بین الاقوامی ڈیزائن کانفرنس 2025 کا افتتاح کرتے ہوئے فیشن اور عالمی تجارت کے موضوع پر اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ ڈیزائن اور فیشن اقتصادی ترقی کی بنیاد ہیں، قومی برانڈنگ کو موثر اور مضبوط بنا کر ڈیزائن کی عالمی قدر میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے، ماحول دوست میٹیریل، متحرک فیشن اور کم سے کم فضلہ پر مبنی پیداوار بین الاقوامی تجارتی معیار بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اٹلی، فرانس اور چین نے یہ ثابت کیا ہے کہ اچھی ڈیزائننگ سے ماحولیاتی نظام اور عالمی مارکیٹ میں اپنے شیئر کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزائننگ کی تعلیم، ڈیجیٹل ٹولز اور تخلیقی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ڈیزائن اور فیشن جدت، قدر میں اضافے اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے عالمی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
وائس چانسلر فیشن اینڈ ڈیزائن یونیورسٹی پروفیسر حنا طیبہ خلیل نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ اس کانفرنس میں ایسے مفکرین اور پریکٹیشنرز مل بیٹھے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ فیشن در حقیقت تخلیقی صلاحیتوں سے بھی بڑھ کر ہے، یہ ایک عالمی کاروباری ماحولیاتی نظام ہے۔
انہوں نے کہاکہ سپلائی چین نیٹ ورکس اور بین الاقوامی سورسنگ سے لے کر پائیداری، ڈیجیٹل ریٹیل، برآمدی مسابقت، ثقافتی تبادلے، بین الاقوامی مسابقت، جدت، اقتصادیات اور سفارت کاری سب اس میں شامل ہیں۔پاکستان عالمی ٹیکسٹائل و ملبوسات کی منڈیوں میں اپنی موجودگی اور مسابقت کو بہتر بنا رہا ہے ،اس لیے آج ہم یہاں جو مباحثہ شروع کر رہے ہیں وہ غیر معمولی مطابقت اور تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس عالمی رہنمائوں سے سیکھنے، نئی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور بین الاقوامی تخلیقی معیشت کے کردار کو سمجھنے کے لیے ہمارے ادارے کی کوشوں کی عکاسی کرتی ہے۔









