مانیٹری پالیسی کا شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کمی کا اعلان

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرحِ سود میں 50 بیسز پوائنٹس کمی کا فیصلہ کیا ہے، اس فیصلے کے بعد بنیادی شرحِ سود کم ہو کر 10.5 فیصد پر آگئی ہے،فیصلے کے بعد پالیسی ریٹ میں کمی کا مقصد قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں اور پائیدار اقتصادی نمو کو فروغ دینا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم …

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرحِ سود میں 50 بیسز پوائنٹس کمی کا فیصلہ کیا ہے، اس فیصلے کے بعد بنیادی شرحِ سود کم ہو کر 10.5 فیصد پر آگئی ہے،فیصلے کے بعد پالیسی ریٹ میں کمی کا مقصد قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں اور پائیدار اقتصادی نمو کو فروغ دینا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس میں 16 دسمبر 2025 سے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ جولائی تا نومبر مالی سال 2025.26 کے دوران اوسط مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدف دائرے میں رہی۔ مجموعی طور پر مہنگائی کا منظرنامہ بڑی حد تک غیر تبدیل شدہ ہے، جس کی بنیادی وجوہات عالمی اجناس کی نسبتاً کم قیمتیں، مہنگائی کی توقعات کا مستحکم رہنا اور محتاط مانیٹری پالیسی موقف ہیں۔

کمیٹی نے یہ بھی جائزہ لیا کہ معاشی سرگرمی میں بتدریج بہتری آ رہی ہے،کمیٹی کے مطابق جولائی تا نومبر مالی سال 25 کے دوران اوسط مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں رہی، جب کہ مہنگائی سے متعلق توقعات بھی مستحکم ہیں۔ عالمی اجناس کی نسبتاً کم قیمتوں اور محتاط مانیٹری پالیسی کے باعث مہنگائی کے منظرنامے میں بڑی تبدیلی نہیں آئی، اگرچہ بنیادی مہنگائی میں قدرے سختی برقرار ہے۔مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اس امر کا بھی جائزہ لیا کہ ملکی معاشی سرگرمی میں بہتری آ رہی ہے۔

لارج سکیل مینوفیکچرنگ، صنعتی پیداوار اور دیگر اہم ہائی فریکوئنسی اشاریوں میں اضافہ اس معاشی بحالی کا واضح ثبوت ہے تاہم عالمی سطح پر برآمدات کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر محتاط پالیسی اپروچ کو برقرار رکھا گیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جاری ہے اور آئی ایم ایف کے جائزوں کی کامیاب تکمیل کے بعد موصول ہونے والی رقوم سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.8 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

ترسیلات زر میں استحکام جبکہ درآمدات میں معاشی سرگرمی کے مطابق اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم غذائی اجناس خصوصاً چاول کی برآمدات میں کمی کے باعث مجموعی برآمدات دباؤ کا شکار رہیں۔مالیاتی محاذ پر مالی سال 25-26 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی اور بنیادی مالیاتی توازن سرپلس میں رہا، جس کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے حکومت کو منافع کی منتقلی ہے تاہم ٹیکس وصولیوں کی رفتار سست رہی، جس کے باعث مالی اہداف کے حصول کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ مہنگائی کو درمیانی مدت میں ہدفی دائرے میں مستحکم رکھنے کے لیے مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں میں ہم آہنگی، اور ٹیکس اصلاحات و سرکاری اداروں کی نجکاری سمیت ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ کمیٹی کے مطابق پالیسی ریٹ میں حالیہ کمی سے سرمایہ کاری، نجی شعبے کے قرضے اور معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری کی توقع ہے، جو بالآخر پائیدار اور جامع معاشی ترقی کا باعث بنے گی۔