وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی میں سکول آف فارماسیوٹیکل سائنسز کا افتتاح کر دیا

اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) اسلام آباد میں سکول آف فارماسیوٹیکل سائنسز کا افتتاح کر دیا۔ یہ اقدام پاکستان میں فارماسیوٹیکل تعلیم، عوامی صحت کی تحقیق اور شعبہ صحت کے افرادی وسائل کی ترقی کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ …

اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) اسلام آباد میں سکول آف فارماسیوٹیکل سائنسز کا افتتاح کر دیا۔

یہ اقدام پاکستان میں فارماسیوٹیکل تعلیم، عوامی صحت کی تحقیق اور شعبہ صحت کے افرادی وسائل کی ترقی کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت افراد، مضبوط ادارہ جاتی استعداد اور پیشہ ورانہ صلاحیت موجود ہے جس کی بدولت ملک اپنے نظام صحت کو اندرونی وسائل کے ذریعے مزید مضبوط اور پائیدار بنا سکتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے قابل ڈاکٹرز، فارماسسٹس اور پبلک ہیلتھ ماہرین تیار کیے جائیں جو دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ معاشرے کی خدمت کر سکیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی سطح پر صحت کے شعبے کی ترجیحات کو علاج سے ہٹا کر بیماریوں کی روک تھام کی جانب منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد لوگوں کو صحت مند رکھنا اور انہیں مریض بننے سے بچانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ہسپتالوں کی تعداد بڑھانے سے پاکستان کو درپیش صحت کے مسائل حل نہیں ہوں گے جب تک بیماریوں کی روک تھام، بنیادی صحت کی سہولیات، صحت کے فروغ اور نظام صحت کی بنیادی ساخت کو مضبوط بنانے پر یکساں توجہ نہ دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط بنیادی نظام صحت نہ صرف صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پاکستان کی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔آبادی میں تیز رفتار اضافے کا ذکر کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی صحت کی سہولیات پر مسلسل دبائو ڈال رہی ہے۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ ایسے تربیت یافتہ، بااخلاق اور بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دینے والے صحت کے کارکن تیار کیے جائیں جو کمیونٹیز کے تحفظ، صحت مند طرز زندگی کے فروغ اور بیماریوں کے بوجھ میں کمی کے لیے موثر کردار ادا کر سکیں۔ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ فارماسیوٹیکل سائنسز صحت کے نظام کا ایک بنیادی ستون ہیں اور نیا سکول فارمیسی، عوامی صحت، ریگولیشن اور ہیلتھ سسٹمز ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں اکیڈمی کی تدریسی، تحقیقی اور پالیسی سازی کی خدمات کو مزید مضبوط بنائے گا۔رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی نمایاں ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ایک چھوٹے تربیتی مرکز سے ترقی کرتے ہوئے ملک کی ایک ممتاز قومی پبلک ہیلتھ یونیورسٹی بن چکا ہے جہاں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں اور مختلف تعلیمی سکولز کے ذریعے قومی و بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی کے مختلف سرکاری اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور صحت عامہ کے اداروں کے ساتھ مضبوط اشتراکات قائم ہیں جو صحت کے شعبے میں موثر پالیسی سازی اور افرادی قوت کی تیاری میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔سکول آف فارماسیوٹیکل سائنسز کا قیام فارمیسی کی تعلیم، تحقیق، جدت اور شعبہ صحت کے افرادی وسائل کی ترقی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جو ایک صحت مند اور مضبوط پاکستان کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگی۔تقریب میں شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے ماہرین، اساتذہ، فارماسسٹس، جامعات اور صحت کے شعبے کے نمائندوں کے علاوہ اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔