پاکستان اور پولینڈ کے درمیان وسیع معاشی امکانات ابھی تک پوری طرح بروئے کار نہیں لائے گئے ،پاویل موکرژکی

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):پولینڈ کے سفارتخانے کے اکنامک سیکرٹری پاویل موکرژکی نے کہا ہے کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان دیرینہ، خوشگوار اور تعمیری تعلقات موجود ہیں تاہم وسیع معاشی امکانات ابھی تک پوری طرح بروئے کار نہیں لائے گئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) سردار طاہر محمود سے ملاقات میں کیا۔موکرژکی نے کہا …

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):پولینڈ کے سفارتخانے کے اکنامک سیکرٹری پاویل موکرژکی نے کہا ہے کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان دیرینہ، خوشگوار اور تعمیری تعلقات موجود ہیں تاہم وسیع معاشی امکانات ابھی تک پوری طرح بروئے کار نہیں لائے گئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) سردار طاہر محمود سے ملاقات میں کیا۔موکرژکی نے کہا کہ پولینڈ کی کمپنیاں تیل و گیس، گرین ٹیکنالوجیز، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، آئی ٹی، ٹیکسٹائل اور خصوصاً زرعی مشینری کے شعبوں میں پاکستانی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے قیام میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان سیکٹرل ورکنگ گروپس بنانے اور دوطرفہ کاروباری وفود کے تبادلوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دستیاب مواقع سے مؤثر فائدہ اٹھایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ پولش سفارتخانہ آئی سی سی آئی کو پولینڈ کے معروف چیمبرز کے ساتھ رابطہ سازی میں مکمل تعاون فراہم کرنے کا خواہش مند ہے تاکہ مضبوط ادارہ جاتی روابط قائم ہوں اور تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے نئے راستے کھل سکیں۔صدر آئی سی سی آئی سردار طاہر محمود نے انجینئرنگ مشینری، مائننگ آلات، قابلِ تجدید توانائی، زرعی ٹیکنالوجیز اور صنعتی آلات میں پولینڈ کی مہارت کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی بڑی صارف مارکیٹ اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی صنعتی بنیاد پولش سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع رکھتی ہے۔ انہوں نے آئی ٹی، رینیوایبل انرجی، ایگرو انڈسٹری، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، اسپورٹس گڈز، سرجیکل آلات اور دیگر مینوفیکچرنگ شعبوں کو مشترکہ منصوبوں کے لیے انتہائی موزوں قرار دیا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی جلد ہی شعبہ وار تفصیلی فہرستیں پولش سفارتخانے کے ساتھ شیئر کرے گا۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے پاکستان کی فروٹ ایکسپورٹس کی بڑی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے اسلام آباد میں جدید کولڈ اسٹوریج اور لاجسٹک سہولیات کی اپ گریڈیشن کے لیے پولینڈ سے تعاون طلب کیا۔ایگزیکٹو ممبر فاطمہ عظیم نے دونوں ممالک کے درمیان وفود کے مسلسل تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔

سیکرٹری جنرل غلام مرتضیٰ نے پاکستان کے معدنیات، دھاتوں اور قیمتی رتنوں کے وسیع ذخائر کا ذکر کرتے ہوئے ویلیو ایڈیشن کے لیے جدید پولش مشینری کی فراہمی کی اہمیت اجاگر کی۔نائب صدر عرفان چوہدری نے کہا کہ آئی سی سی آئی بی ٹو بی میچ میکنگ سیشنز، نمائشوں اور شعبہ وار انٹریکشنز کے انعقاد کے لیے تیار ہے اور پولش تجارتی وفود کو پاکستان بھیجنے کے لیے سفارتخانے کے تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے۔