اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سینئر ایڈوائزر انرجی چائنہ اور سابق سی پیک پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان چار سالہ ایکشن پلان (29-2025) اور سی پیک فیز ٹو منصوبے خطے میں تعاون اور خوشحالی کے نئے دور کی بنیاد رکھیں گے۔پیر کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے بتایا کہ اس ایکشن پلان کے تحت …
پاکستان اور چین کے درمیان چار سالہ ایکشن پلان (29-2025) اور سی پیک فیز ٹو منصوبے خطے میں تعاون اور خوشحالی کے نئے دور کی بنیاد رکھیں گے،ڈاکٹر حسن داؤد بٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سینئر ایڈوائزر انرجی چائنہ اور سابق سی پیک پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان چار سالہ ایکشن پلان (29-2025) اور سی پیک فیز ٹو منصوبے خطے میں تعاون اور خوشحالی کے نئے دور کی بنیاد رکھیں گے۔پیر کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے بتایا کہ اس ایکشن پلان کے تحت زرعی، صنعتی، انفراسٹرکچر اور سائنسی شعبوں میں گہرا تعاون متوقع ہے جو دونوں ممالک کے معاشی اور تجارتی تعلقات کو مستحکم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوں گے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور پائیدار خوشحالی کے لیے بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ چار سالہ ایکشن پلان 2025-2029 چین اور پاکستان کی دوستی کو سیاسی، معاشی، دفاعی اور عوامی تمام پہلوؤں میں ایک نئے مرحلے پر لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ خطے اور عالمی سطح پر دونوں ممالک کے دیرپا تعاون اور امن کی مثال قائم کرنے کی کوشش ہے۔
ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے مزید کہا کہ سی پیک فیز ٹو کے تحت مختلف شعبوں میں جاری منصوبے پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھانے، صنعتی پیداوار کو فروغ دینے اور زرعی شعبے کی استعداد کاری میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ساتھ ہی، جدید انفراسٹرکچر اور سائنسی تحقیق کے منصوبے دونوں ممالک کے عوام کے معیار زندگی میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات محض اقتصادی یا تجارتی نہیں بلکہ ایک گہرے دوستی اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر استوار ہیں، اور یہ چار سالہ ایکشن پلان اس تعلق کو مزید مستحکم اور جامع بنائے گا۔








