اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):پاکستان سنگل ونڈو(پی ایس ڈبلیو)نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پاکستان کسٹمز کے ساتھ مل کر سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ایس آئی ڈی سی) کے لیے پوسٹ پیمنٹ نظام نافذ کر دیا ہے۔ یہ نظام ڈبلیو ای بی او سی اور پی ایس ڈبلیوسسٹم کے تحت متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سے پہلے جولائی 2025 میں کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کے لیے یہی نظام کامیابی سے …
پی ایس ڈبلیو کی جانب سے سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے لیے پوسٹ پیمنٹ نظام نافذ

مزید خبریں
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):پاکستان سنگل ونڈو(پی ایس ڈبلیو)نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پاکستان کسٹمز کے ساتھ مل کر سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ایس آئی ڈی سی) کے لیے پوسٹ پیمنٹ نظام نافذ کر دیا ہے۔ یہ نظام ڈبلیو ای بی او سی اور پی ایس ڈبلیوسسٹم کے تحت متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سے پہلے جولائی 2025 میں کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کے لیے یہی نظام کامیابی سے نافذ کیا جا چکا ہے۔
یہ اقدام ایف بی آر کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تجارتی طریقہ کار کو آسان بنانا اور کاروباری اداروں پر ریگولیٹری بوجھ کم کرنا ہے۔ اس سے پہلے تاجروں کو ایس آئی ڈی سی کی ادائیگی کسٹمز اسسمنٹ سے پہلے کرنا ہوتی تھی، جس کی وجہ سے گڈز ڈیکلریشن بروقت جمع کرانے میں مشکلات اور مالی دباؤ کا سامنا رہتا تھا۔ نئے نظام کے تحت اب ایس آئی ڈی سی کی ادائیگی کسٹمز کلیئرنس کے بعد کی جا سکے گی، جس سے تجارتی عمل میں آسانی، تاخیر میں کمی اور بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو سکے گی۔
ایس آ ئی ڈی سی کو شامل کرنے کے بعد اب تمام اہم ڈیوٹیز اور ٹیکسز ایک ہی پوسٹ پیمنٹ نظام سے وصول کی جائیں گی ۔ اس ہم آہنگی سے کسٹمز کلیئرنس کا عمل مزید تیز ہو گیا ہے اور بندرگاہوں پر کارگو کی روانی بہتر ہوئی ہے۔ کلیئرنس سے پہلے رقم جمع کرنے کی شرط ختم ہونے سے تاجروں کے لیے کام کرنا آسان ہو جائے گا اور وہ اپنے کاروبار پر بہتر توجہ دے سکیں گے۔پاکستان سنگل ونڈو کے سی ای او آفتاب حیدر نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی قیادت میں اور پاکستان سنگل ونڈو کے تعاون سے یہ اقدام پاکستان کے تجارتی نظام کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ان کے مطابق اس نظام سے تاجروں کو مالی سہولت ملے گی، کلیئرنس کا وقت کم ہو گا اور مجموعی طور پر تجارت کا عمل بہتر ہو گا۔پاکستان سنگل ونڈو ملک میں تجارت کو ڈیجیٹل اور آسان بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ ایس آئی ڈی سی کے لیے پوسٹ پیمنٹ نظام کا نفاذ اس عزم کا حصہ ہے جس سے تجارتی عمل مزید شفاف، تیز اور پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہو گا۔








