چین کے شہر ای وو نے بڑی تعداد میں پاکستانی تاجروں کی توجہ حاصل کر لی

بیجنگ۔16دسمبر (اے پی پی):ای وو پاکستانی تاجروں کے کاروباری خوابوں کی تکمیل کا اہم مرکز بن گیا ہے۔منگل کو چینی میڈیا گروپ کی رپورٹ کے مطابق، چین کا نسبتاً چھوٹا مگر عالمی شہرت یافتہ شہر ای وو پاکستانی تاجروں کے لیے ایک مانوس اور پُرکشش تجارتی مرکز بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر چھوٹی اشیاء کی تجارت کے مرکز کے طور پر ای وو نے بڑی تعداد میں پاکستانی تاجروں …

بیجنگ۔16دسمبر (اے پی پی):ای وو پاکستانی تاجروں کے کاروباری خوابوں کی تکمیل کا اہم مرکز بن گیا ہے۔منگل کو چینی میڈیا گروپ کی رپورٹ کے مطابق، چین کا نسبتاً چھوٹا مگر عالمی شہرت یافتہ شہر ای وو پاکستانی تاجروں کے لیے ایک مانوس اور پُرکشش تجارتی مرکز بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر چھوٹی اشیاء کی تجارت کے مرکز کے طور پر ای وو نے بڑی تعداد میں پاکستانی تاجروں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے، جو یہاں مختلف تجارتی سرگرمیوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔ای وو کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مصنوعات کی بے پناہ اقسام دستیاب ہیں، جن میں چھوٹے گھریلو آلات، الیکٹرانکس، روزمرہ استعمال کی اشیاء اور سجاوٹی سامان شامل ہے۔

یہ متنوع مارکیٹ پاکستانی تاجروں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں کم لاگت میں عالمی منڈی تک رسائی فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث ای وو پاکستانی تاجروں کے کاروباری خوابوں کی تکمیل کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن گیا ہے۔حال ہی میں فوڈان یونیورسٹی میں منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ انٹرنیشنل فورم میں بھی ای وو عالمی ماہرینِ معیشت اور اسکالرز کی توجہ کا مرکز رہا۔ چھوٹی اشیاء کا یہ عالمی دارالحکومت نہ صرف “پوری دنیا سے خریداری اور پوری دنیا کو فروخت” کے تصور کو عملی شکل دے رہا ہے بلکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے بارہ سالہ سفر کو خیال سے حقیقت میں بدلنے کی نمایاں مثال بھی پیش کر رہا ہے۔ای وو کی ترقی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے گہرے طور پر ہم آہنگ ہے۔

2013ء کے بعد ای وو-سنکیانگ-یورپ ریلوے لائن اور ای وو-نین بو-ژوشان اوپن چینل کی تکمیل سے ریل، سڑک، فضاء، دریا اور سمندر پر مشتمل ایک جامع ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک قائم ہو چکا ہے۔ 13,052 کلومیٹر طویل چائنا-یورپ ریلوے کے ذریعے ای وو کی مصنوعات یوریشیا کے اندرونی علاقوں تک بآسانی پہنچ رہی ہیں۔جنوبی ایشیا کے ممالک خصوصاً پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال سے تعلق رکھنے والے ہزاروں تاجر روزانہ ای وو انٹرنیشنل ٹریڈ سٹی کا رخ کرتے ہیں۔

یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری سے قائم کاروباری اداروں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے 81 فیصد بیلٹ اینڈ روڈ شراکت دار ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال نے ای وو کی تجارت کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔ چائنا گُڈز پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تاجر چند دنوں میں آرڈر مکمل کر سکتے ہیں جبکہ 24 گھنٹے لائیو سیلنگ، بیرونِ ملک گوداموں اور دبئی میں قائم اوورسیز مارکیٹ نے لاجسٹکس لاگت میں نمایاں کمی کی ہے۔