ڈی آئی جی سائوتھ نے تعلیمی اداروں کے لیے انسداد منشیات پالیسی کے مسودے کی نقاب کشائی کر دی

ڈی آئی جی سائوتھ زون سید اسد رضا نے تعلیمی اداروں کے لیے انسداد منشیات پالیسی کے مسودے کی نقاب کشائی کر دی ہے جس کا مقصد طلبہ کو منشیات، ویپنگ اور تمباکو سے محفوظ رکھنا اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل کو یقینی بنانا ہ

کراچی۔9جون (اے پی پی):ڈی آئی جی سائوتھ زون سید اسد رضا نے تعلیمی اداروں کے لیے انسداد منشیات پالیسی کے مسودے کی نقاب کشائی کر دی ہے جس کا مقصد طلبہ کو منشیات، ویپنگ اور تمباکو سے محفوظ رکھنا اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔ منگل کو گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی سائوتھ سید اسد رضا نے بتایا کہ نوجوانوں کی حفاظت، مستقبل کی حفاظت کے عنوان سے تیار کردہ مجوزہ پالیسی میں ضلع جنوبی کراچی کے سکولوں، کالجوں اور جامعات کے لیے متعدد احتیاطی اور اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ مسودے کے مطابق تمام تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک، تمباکو سے پاک اور ویپ فری زونز قرار دیا جائے گا جبکہ کیمپس کے اندر منشیات اور متعلقہ مصنوعات کے استعمال، فروخت، ترسیل اور ترویج کی روک تھام کے لیے سخت اور موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ پالیسی میں والدین کی رضامندی سے طلبہ کی سکریننگ اور ٹیسٹنگ کی تجویز بھی شامل ہے۔

مشتبہ کیسز کو مشاورت، بحالی اور والدین کی فعال شمولیت کے ذریعے نمٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں انسداد منشیات کمیٹیوں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جن میں پرنسپل، اساتذہ، کونسلرز، والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹیاں پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی کریں گی۔ مسودے میں منشیات کی سمگلنگ، تقسیم اور فروغ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ قانونی حدود کے اندر بیگز، لاکرز اور ذاتی سامان کی تلاشی کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ پالیسی کے مطابق منشیات کے ٹیسٹ کا مثبت نتیجہ سامنے آنے کی صورت میں معاملے کو ابتدائی طور پر سزا کے بجائے فلاح و بہبود اور بحالی کے تناظر میں دیکھا جائے گا جس میں بروقت نشاندہی، علاج اور بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مجوزہ فریم ورک میں طلبہ کے لیے باقاعدہ آگاہی سیمینارز، ورکشاپس اور لیکچرز کے انعقاد، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر منشیات سے متعلق سرگرمیوں کی موثر نگرانی اور تعلیمی اداروں و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

پالیسی میں طلبہ کی رازداری کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے سکولوں اور کالجوں کے اطراف سرگرم منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈائون کی سفارش کی گئی ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت والدین کو داخلے کے وقت انسداد منشیات اعلامیہ بھی جمع کرانا ہوگا۔ ڈی آئی جی سائوتھ سید اسد رضا کا کہنا تھا کہ پالیسی کا مسودہ مشاورت اور منظوری کے لیے مختلف تعلیمی اداروں کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد طلبہ کو سزا دینا نہیں بلکہ بروقت مداخلت، علاج اور متاثرہ طلبہ کی موثر بحالی کو یقینی بنانا ہے۔