اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے چائنا سٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام منگل کو’’ترقی بطور تبدیلی: چین سے سیکھنا‘‘ کے عنوان سے جنید زیدی مرکزی لائبریری میں سیمینار منعقد کیا گیا۔ یہ تقریب پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی یادگار کے طور پر منعقد ہوئی جس میں سفارتکاروں، ماہرین تعلیم اور طلبہ نے شرکت کی۔ عوامی جمہوریہ چین کے سفارت …
کامسیٹس یونیورسٹی کے چائنا سٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے چائنا سٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام منگل کو’’ترقی بطور تبدیلی: چین سے سیکھنا‘‘ کے عنوان سے جنید زیدی مرکزی لائبریری میں سیمینار منعقد کیا گیا۔
یہ تقریب پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی یادگار کے طور پر منعقد ہوئی جس میں سفارتکاروں، ماہرین تعلیم اور طلبہ نے شرکت کی۔ عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے کے کلچرل قونصلر چن پنگ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ کلیدی خطاب چین میں اقوام متحدہ کے سابق رابطہ کار اور اقوام متحدہ کے دفترِ برائے انسانی ترقی کے سابق ڈائریکٹر خالد ملک نے کیا۔ تقریب میں نمایاں شخصیات میں سابق وفاقی وزیر اور سابق نائب چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن ڈاکٹر اکرم شیخ، گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کے ڈائریکٹر اور سینئر فیلو ڈاکٹر محمد شعیب سدل اور کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بانی ریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی بھی شامل تھے۔خیرمقدمی خطاب میں ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے پاکستان اور چین کی حکومتوں کی جانب سے کامسیٹس یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کیلئے کردار کو سراہا۔ انہوں نے جامعہ کی تجارتی بنیادوں پر پیش کی گئی تحقیقی پیداوار اور اس کے معاشی و سماجی اثرات پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال کا دائرہ جو ابھی تک دفاعی شعبے تک محدود ہے ، بائیو میڈیکل، دواسازی اور انفارمیشن و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں تک وسیع کیا جائے۔ ڈاکٹر راحیل قمر نے اس سیمینار کو پاک چین دوستی کی یادگار تقریبات کے سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا۔ مہمان خصوصی چن پنگ نے چائنا سٹڈی سینٹر کی کاوشوں کو سراہا اور کامسیٹس یونیورسٹی اور چینی جامعات کے درمیان تعلیمی شراکت داری کا ذکر کیا۔ اپنے کلیدی خطاب میں خالد ملک نے اقوام متحدہ اور بیجنگ میں اپنے تجربات کی روشنی میں چین کے ترقیاتی ماڈل کا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے غربت کے خاتمے میں چین کی کامیابی کو محض معاشی پیداوار میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور حکمرانی کے ڈھانچے میں جامع تبدیلی کا ثمر قرار دیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں اساتذہ اور طلبہ نے معاشی پائیداری اور ٹیکنالوجی کے انضمام سمیت متعدد موضوعات پر گفتگو میں حصہ لیا۔ یہ سیمینار پاک چین تعلقات کے 75 ویں سال کی یاد میں کامسیٹس یونیورسٹی کی جانب سے جاری سرگرمیوں کا حصہ ہے۔








