پاکستان میں چین کے سفیر یاﺅ جنگ کا میڈیا تھنک ٹینک سے خطاب

اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) پاکستان میں چین کے سفیر یاﺅ جنگ نے کہا ہے کہ دنیا کشمیر کے تاریخی تنازعہ کو نظر انداز کر رہی ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی انصاف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، پاک۔چین تعلقات کے خلاف دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں گے، نئے سال کے آغاز پر میں پاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس امید کے ساتھ کہ یہ سال پاکستان اور چین کے تعلقات کے ساتھ ساتھ معیشت کی بہتری کا سال ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو میڈیا تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یاو¿ جِنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے باہر کے علاقوں میں باہمی تعاون کو مزید تقویت دے کر مشترکہ دشمنوں کے پروپیگنڈوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ یہ سال پاکستان اور چین دونوں کی طرف سے تجدید عہد کا سال ہے، دفاع اور بین الاقوامی امور سمیت اہم شعبوں میں مزید تعاون کریں گے۔ یاﺅ جنگ نے چینی سفارتخانے میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2020ءمیں ہمیں ابھی بھی چیلنجز کا سامنا ہے، یہ چیلنجز نہ تو چین کی طرف سے ہیں اور نہ ہی پاکستان کی طرف سے لیکن ہمارے مشترکہ دشمنوں کی طرف سے ہیں جو دونوں ممالک کے مابین اچھے تعلقات کو نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا خاص طور پر سی پیک کے حوالے پاکستان اور چین کے تعلقات کے خلاف ہے جو بالکل بلاجواز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا دشمن ہماری معاشی، دفاعی اور سماجی محاذوں پر ترقی نہیں دیکھنا چاہتا، وہ امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کی ہماری صلاحیت کو نہیں دیکھنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے چین کے دو کامیاب دورے کئے اور ان دوروں کے دوران انہوں نے چینی قیادت کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ اور سی پیک کے منصوبوں کو آگے بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ یاو¿ جنگ نے کہا کہ سی پیک کا منصوبہ سست روی کا شکار نہیں ہے تاہم اس کا فوکس تبدیل ہوا ہے، پہلے مرحلہ کے تحت توانائی، آمدورفت، گوادر کی بندرگاہ جیسے اہم منصوبوں پر عملدرآمد کیا گیا جبکہ اس کا دوسرا مرحلہ عوامی فلاح و بہبود سے تعلق رکھتا ہے جس میں 27 منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ چینی سفیر نے کہا کہ اگلے مرحلہ کے تحت چار اہم شعبوں میں پیشرفت کی جائے گی جن میں پہلا شعبہ صنعت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ دیگر شعبوں میں زراعت، معاشی شعبہ کی ترقی اور سائنس و ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے قریبی تعاون کر رہی ہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ اس حوالہ سے چین اور پاکستان کے مشترکہ مخالفین کی جانب سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے پاکستانی ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ چین کے حوالہ سے کسی بھی منفی خبر کو نشر کرنے سے قبل چینی سفارتخانہ سے اس خبر کی تصدیق ضرور کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سنکیانگ کے حوالہ سے ذرائع ابلاغ ذمہ داری کے ساتھ حقائق سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ سنکیانگ کا غلط نقشہ پیش کر رہے ہیں تاہم صورتحال اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے گذشتہ سال 8 مختلف وفود نے صوبہ سنکیانگ کا دورہ کیا تھا اور وہاں کی حقیقی صورتحال دیکھی تھی، سنکیانگ میں تقریباً 25 ہزار مساجد ہیں جہاں لوگ اپنی عبادت کرتے ہیں۔ چینی شہریوں کی پاکستانیوں کے ساتھ شادی کے حوالہ سے چینی سفیر نے کہا کہ شادی کرنا ہر کسی کا حق ہے تاہم اس میں قانونی تقاضے پورے کرنا انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی قانون میں زبردستی کی شادی غیر قانونی ہے اور سفارتخانہ شادی سے متعلق دستاویزات کی تصدیق میں انتہائی احتیاط کرتا ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک کے تحت نئے منصوبے شروع کئے جائیں گے، جن میں فیصل آ باد اکنامک زون، رشکئی اقتصادی زون، پاکستانی طلباءکو وظائف کی فراہمی اور دیگر کئی منصوبے شامل ہیں۔ یاﺅ چنگ کا کہنا تھا کہ رواں سال چین اور پاکستان کے مابین علاقائی امن و سلامتی کے حوالے سے تعاون شاندار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے علاقائی تعاون اور عالمی امن کےلئے بے شمار اقدامات اختیار کئے۔ چینی سفیر نے نئے سال کی آمد کے موقع پر تمام پاکستانیوں کےلئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین تعلیم، غربت کے خاتمے، تجارتی منصوبوں سمیت دیگر شعبوں کی ترقی میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ یاﺅ جنگ نے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کر دار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2020ءبھی پاکستان اور چین کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل سال ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہ چین نے بھارت کی طرف سے جموں وکشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی مخالفت کی ہے، جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدے موجود ہیں جن میں اس متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں اور بین الاقوامی اقدار کا احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت امن و استحکام اور کشمیر کے لوگوں کیلئے ذمہ دارانہ رویہ اپنائے گا۔ چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور چین انصاف اور بین الاقوامی اقدار اور عالمی قوانین کے تحفظ کیلئے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس خطے میں امن واستحکام تمام علاقائی ممالک کی ذمہ داری ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس میں صنعتی تعاون اور سماجی شعبے کی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت بھی معاشرے کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے اورتعلیم،صحت کے فروغ اور غربت کے خاتمے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی شعبے کے تحت 27 منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں۔