اسلام آباد ۔16 جون(اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرحد کے اندر پاک سرزمین میں بارڈر مینجمنٹ اور نقل و حرکت کو ریگولیٹ کرنے کےلئے اقدامات اٹھانا کسی دوطرفہ معاہدے یا عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے‘ طورخم بارڈر پر پاکستانی علاقے میں گیٹ کی تنصیب کا مقصد یہاں سے ہونے والی افرادی یا گاڑیوں کی نقل و حرکت کو دستاویزی اور ریگولیٹ کرنا ہے‘ افغان حکام کو دو ماہ قبل بتا دیا گیا تھا کہ یکم جون 2016ءسے پاک افغان بارڈر پر نقل و حرکت کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی جائے گی‘ افغان وزیر خارجہ اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کو دعوت دی ہے کہ وہ اس مسئلے پر بات چیت کے لئے پاکستان آئیں جس کو انہوں نے سراہا ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں طورخم بارڈر پر پاک افغان فورسز کے درمیان کشیدگی اور افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ پر پالیسی بیان دیتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ 12 جون کو افغان فورسز کی جانب سے پاکستان کی جانب سے اس کے اپنے علاقے میں 31 میٹر پاکستانی سرحد کے اندر گیٹ کی تعمیر کی جارہی تھی جس پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس میں 9 سویلین زخمی ہوئے اور اس فائرنگ سے زخمی ہونے والے میجر علی جواد 14 جون کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس گیٹ کی تعمیر کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد پر نقل و حرکت کو باقاعدہ بنانے اور دہشتگردی کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا ایک جزو ہے۔