شہروں کو گرمی کی لہر کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے شہری شجرکاری ناگزیر ہے، وفاقی وزیر موسمایتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان کا بیان

اسلام آباد ۔ 06 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی، سینیٹر مشاہد اللہ خان نے وفاقی اور صوبائی محکمہ جنگلات کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان کے شہروں کو گرمی کی لہر کی شدت اور تواتر سے رونما ہونے والے واقعات اور ذریعہ معاش پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے شہری شجرکاری کو ملکی سطح پر فروغ دیں۔اتوار کو جاری بیان میں مشاہد اللہ خان نے مزید کہا کہ شہروں کو گرمی کی لہر کی شدت تواتر سے رونما ہونے والے واقعات اور شہروں میں شدید گرمی کے لوگوں اور ان کے ذریعہ معاش پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے شہری شجرکاری یا اربن فاریسٹری انتہائی ناگزیر مگر سستا اور پائیدار طریقہ ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی محکمہ جنگلات کے افسران کو مزید ہدایت کی ہے کہ مون سون، موسم بہار کے دوران ہونے والی شجرکاری مہم اور وزیر اعظم کے قومی سطح پر 10 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیے گئے گرین پاکستان پروگرام میں شہری شجرکاری کو شامل کریں تاکہ پاکستان کے شہروں کو عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان کے شہروں میں شدت سے واقعہ ہونے والی گرمی کی لہر اور شہروں کو جہنم بننے سے روکا جاسکے۔