اسلام آباد ۔ 11 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت اور مجموعی ملکی پیداوار میں توانائی کا ایک اہم کردار ہے، پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے اور اس کو سستی اور اچھی توانائی اپنی معاشی ترقی کیلئے چاہئے، حکومت کا مقصد توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں توانائی کے شعبہ میں بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کرنے کےلئے بھرپور کوشش کر رہی ہے، آف شور ڈرلنگ کے حوالہ سے جلد خوشخبری ملے گی۔ وہ پیر کو انٹرنیشنل کانفرنس برائے پاکستان پٹرولیم سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد گیس کے کنویں دریافت ہو چکے ہیں مگر ابھی بھی طلب اور رسد میں فرق ہے، پاکستان اپنی توانائی کی ضرورت کا 80 فیصد حصہ بین الاقوامی مارکیٹ سے لیتا ہے جبکہ دوسری طرف ہم بڑھتے ہوئے درآمدی بل سے بھی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مو¿ثر لاگت کا انرجی مکس بھی چاہئے جو کہ ہماری سالانہ ضرورت کو پورا کر سکے، ہماری سالانہ ضرورت 8 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے، تیل گیس اور قدرتی مائع گیس ہمارے انرجی مکس کا اہم حصہ ہے اور ہمارے 75 فیصد بنیادی توانائی کی رسد کا بھی حصہ ہے، یہ حکومت توانائی کے بحران سے نمٹنا چاہتی ہے۔ اس سلسلہ میں انرجی ٹاسک فورس بھی بنائی گئی ہے، یہ ٹاسک فورس جلد ایک جامع منصوبہ پیش کرے گی، تیل ہمارے ملک کا اہم شعبہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ تمام شعبہ جات کی طلب پورا نہیں کرسکتا، تمام مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں ملک میں جدید ریفائنریاں قائم کر رہی ہیں۔ غلام سرور خان نے کہا کہ اس شعبہ میں سی پیک کے بعد اور بھی اضافہ ہو گا، تیل کے شعبہ میں ابھی تک کوئی ڈیپ کنورشن ریفائنری نہیں لگائی گئی ہے، پاکستان میں صرف 5 لوکل ریفائنریاں ہیں جو کہ 12 ملین ٹن سالانہ تیل کی مصنوعات بنا رہی ہیں جبکہ ملک بھر میں طلب 25 ملین ٹن سالانہ ہے، پاکستان کو تیل کی مصنوعات میں خود کفیل ہونے کی اشد ضرورت ہے، اس حکومت نے طے کیا ہے کہ فرنس آئل سے بجلی نہیں بنائی جائے گی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین ہونے والے باہمی تعاون کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا.جس میں پاکستان کی پہلی ڈیپ کنورژن آئل ریفائنری بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم پاکستان میں تیل و گیس کی پیداوار میں بہتری لانے پر بھی کام کر رہے ہیں جبکہ بہت جلد تیل اور گیس کی تلاش کے نئے بلاکس میں پیش کئے جائیں گے، حکومت پاکستان تمام مقامی و بین الاقوامی شہرت کے حامل کمپنیوں کو تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے متعلق یکساں مواقع فراہم کر رہی ہے۔ مزید برآں پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش پیداوار سے منسلک کمپنیوں کو نہ صرف پورے خطہ کے مقابلہ میں زیادہ اچھے نرخ دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس تیل وگیس کی ٹرانسمیشن کےلئے بہترین ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک موجود ہے جو 185000 کلومیٹر پر محیط ہے، اس نیٹ ورک کے ذریعے تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے منسلک کمپنیوں کو گیس کے خریداروں کی ایک بڑی تعداد میسر ہو گی، پاکستان میں ماورائے ساحل کے بہت بڑے حصے میں ابھی تک تیل و گیس کی تلاش کا سلسلہ شروع نہیں کیا جا سکا، یہ بات باعث افتخار ہے کہ کیکرا ون میں او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ کمپنی ایگزون موبل اور ای این آئی بھی تیل و گیس کی تلاش میں مصروف عمل ہیں جبکہ ہمیں ماورائے ساحل ڈرلنگ سے بہت اچھے نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے، اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈریلنگ کے ذریعے بڑے ذخائر دریافت کئے جا سکتے ہیں، ہمیں بہت امید ہے کہ کراچی میں ماوراے ساحل ہونے والی تیل و گیس کے متعلق کاوشیں رنگ لائینگی اور قوم کو بہت جلد اچھی خبر ملے گی۔