APP39-10 DUBAI: February 10 - Prime Minister Imran Khan delivers key note speech at World Government Summit. APP

دبئی/اسلام آباد۔ 10 فروری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ۖ کے انسانی مساوات کے درس پر عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم، قانون پر عملدرآمد اور انصاف اسلامی تاریخ کی بنیاد ہے، ہم اپنے ملک کو بھی اسی بنیاد اور اصول پر ترقی دینا چاہتے ہیں، قانون پر عملدرآمد اور ریاست کا جوابدہ ہونا یقینی بنا رہے ہیں، حکومتی اصلاحات کے ایجنڈے میں معاشی پالیسی کی بہتری کے تحت قومی برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی، مالیاتی اور حسابات جاریہ کے خسارہ میں اصلاحات کے ذریعے کمی لانا ترجیحات میں شامل ہے، حکومت کاروباری آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ٹیکس کے قوانین میں تبدیلی لا رہی ہے جو ہماری اصلاحات کا ایک اہم جزو ہے، پاکستان میں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان میں دنیا کے بہترین پہاڑ، ساحل، قدیم تاریخی ورثہ سمیت ملک میں مذہبی سیاحت کے وسیع مواقع بھی موجود ہیں’حکومت کی اولین ترجیحات میں قانون پر عملدرآمد اور ریاست کا جوابدہ ہونا ہے، ہم غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں کیونکہ 25 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، ہم چین کی طرح غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ترقی کے لئے ملک میں اصلاحات کے پروگرام پر عمل کر رہے ہیں تاکہ موجودہ مسائل کا خاتمہ ہو سکے’ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا ملک ہے جس کے تدارک کے لئے ہم نے خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے، پولیس اور بیورو کریسی کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا، سیاحت کو فروغ دیا اور پانچ سال کے بعد غربت میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو دبئی میں منعقدہ ورلڈ گورنمنٹ سمٹ 2019ء میں گورننس کے وژن اور پاکستان کے حوالے سے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک بین الاقوامی کھلاڑی کرکٹر سے وزیراعظم پاکستان کیسے بنا؟ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی اس پہلی نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس نے 1960ء کی دہائی میں پاکستان کی تیز تر ترقی کو دیکھا ہے، 1960ء کی دہائی میں پاکستان ایشیاء میں تیز تر ترقی کرنے والے ممالک میں شامل تھا اور اس کی ترقی کی رفتار ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک مثال تھی۔ انہوں نے کہا کہ شیخ راشد بن مکتوم نے مجھے بتایا کہ امارات ایئر لائنز کو کامیاب بنانے کے لئے پی آئی اے نے مدد فراہم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں گورننس کا نظام بہترین تھا اور ہماری بیورو کریسی کی کارکردگی پورے ایشیاء میں سب سے بہترین تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاست میں آنے کی پہلی وجہ کرکٹ ہے کیونکہ جب میں نے عالمی کرکٹ شروع کی تو پاکستان ٹیم دنیا کی کمزور ترین ٹیم تھی، ہمارے کھلاڑی کالونیل ازم سے متاثر تھے اور کہتے تھے کہ ہم کیسے مقابلہ کریں گے لیکن جب میں نے ٹیم کو چھوڑا تو اس وقت پاکستان ورلڈ چیمپئن تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ اعتماد کیسے حاصل کیا کہ ہم دنیا کی بہترین ٹیم بن گئے لیکن بدقسمتی سے ہمارا ملک اپنی ترقی کے عمل کو جاری نہ رکھ سکا۔ انہوں نے کہا کہ قوموں اور ممالک کی تاریخ میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے، پاکستان کی ترقی میں تنزلی کی بھی مختلف وجوہات ہیں، سیاست میں آنے کی دوسری وجہ کینسر ہسپتال بنا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب میں نے کرکٹ چھوڑی تو پاکستان میں پہلا کینسر ہسپتال بنایا کیونکہ جب میری والدہ کینسر میں مبتلا ہوئیں تو مجھے پتہ چلا کہ ملک میں کینسر کے علاج کے لئے کوئی ہسپتال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تو بیرون ملک سے مہنگا علاج کرا سکتا تھا لیکن عام آدمی کے لئے یہ ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے پیش نظر میں نے عوام کے لئے کینسر ہسپتال بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم رسک لے کر اور مقابلہ کر کے کرکٹ کے چیمپئن بنے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر ہسپتال کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے کے دوران جب میں عوام میں گیا تو غریب ترین افراد نے بھی میری بھرپور مالی مدد کی، میں نے عوام کے پیسے اور عطیات سے یہ ہسپتال بنایا ہے بلکہ یہاں پر 80 فیصد مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کا علاج مہنگا ترین علاج ہے لیکن شوکت خانم ہسپتال نجی شعبہ میں کام کرنے والا دنیا کا واحد ہسپتال ہے جہاں پر 80 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہسپتال کی تکمیل کے بعد میں نے سوچا کہ اگر عوام ہسپتال بنا کر اس کو چلا سکتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے، پاکستان عطیات دینے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے لیکن وہاں پر ٹیکس دہندگان کی شرح کم ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام کو حکومت پر اعتماد نہیں، عوام حکمرانوں کی عیاشیوں اور شاہانہ طرز زندگی کی وجہ سے بھی ٹیکس نہیں دیتے اور زیادہ تر ٹیکس چوری ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے سیاست میں آنے کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے کھلاڑی ہونے کے کیریئر کے دوران چھ ماہ برطانیہ اور چھ ماہ پاکستان میں رہتا تھا جہاں میں دیکھتا تھا کہ وہاں پر احتساب، عوام کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں میں نے دیکھا کہ اس کے بالکل برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے متحدہ عرب امارات میں 1980ء کی دہائی کے بعد بہت کرکٹ کھیلی اور یو اے ای کی ترقی کو اپنی نظروں سے دیکھا، اسی طرح چین کی تیز رفتار ترقی کا بھی مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ترقی کرنے والے ممالک کے پیچھے ایک مشترک چیز تھی جو گورننس تھی، حکومت جوابدہ تھی، اگر حکومت شفاف اور جوابدہ ہو تو ترقی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ پر عملدرآمد کے ذریعے بھی ملک ترقی کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے آسٹریلیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا 200 سال سے کرکٹ کھیلنے والا کامیاب ترین ملک ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں پر بہترین ٹیلنٹ کو سامنے لایا جاتا ہے، پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیلنٹ ہے لیکن میرٹ نہ ہونے کی وجہ اور ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ 1960ء میں سول سروسز کا امتحان مشکل ترین ہوتا تھا لیکن ہر نوجوان سول سروس میں جانا چاہتا تھا، ہماری سول سروس کا بہترین معیار تھا لیکن میرٹ کا نظام ختم ہونے سے ہمارے ملک پیچھے چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کو ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتا ہوں جس طرح کی ترقی یو اے ای اور چین نے کی ہے، یہ بڑی اہم مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی طرح تیز تر ترقی کسی قوم نے نہیں کی، چین نے 700 ملین افراد کو بہت کم وقت میں غربت سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اور خصوصاً اسلامی تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے میں پاکستان کو ریاست مدینہ کے تصور کے مطابق دیکھنا چاہتا ہوں، ریاست مدینہ کی انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کی بنیاد انصاف اور انسانی فلاح و بہبود تھی اور مدینہ کی ریاست دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی۔ انہوں نے کہا کہ چین نے بھی اسی ماڈل پر عمل کیا اور ترقی حاصل کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ میں ریاست غریبوں، یتیموں اور بیوائوں کی فلاح و بہبود کی پابند تھی اور ان کے باقاعدہ وظائف جاری ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کا دوسرا اہم عنصر انصاف تھا اور حضرت محمد ۖ نے علم کے حصول کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ علم کے حصول کے لئے اگر چین بھی جانا پڑے تو جائو۔ انہوں نے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ علم کا حصول کتنا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی فلسفہ کے تحت مدینہ کی ریاست کے قیام کے 700 سال بعد تک دنیا میں تمام بڑے بڑے سائنسدان مسلمان تھے، ریاست میں اقلیتوں کو بھی مکمل حقوق حاصل تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میثاق مدینہ آج بھی محفوظ ہے جس میں اقلیتوں کے حقوق کی گارنٹی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی کریم ۖ نے ہمیں انسانی مساوات کا درس دیا اور تعلیم، قانون پر عملدرآمد کو انصاف اسلامی تاریخ کی بنیاد ہے اور ہم اپنے ملک کو بھی اسی بنیاد اور اصول پر ترقی دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں قانون پر عملدرآمد اور ریاست کا جوابدہ ہونا ہے، ہم غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں کیونکہ 25 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، ہم چین کی طرح غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ترقی کے لئے ملک میں اصلاحات کے پروگرام پر عمل کر رہے ہیں تاکہ موجودہ مسائل کا خاتمہ ہو سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب میں نے سیاست شروع کی تو 1996ء سے لے کر 2013ء تک ہماری سیاسی جماعت ایک چھوٹی جماعت تھی جو ایک قدم آگے جاتی تو تین قدم پیچھے ہٹتی، پہلے انتخابات میں ہمیں کوئی سیٹ نہ ملی، دوسرے انتخابات میں ایک اور تیسرے کا ہم نے بائیکاٹ کیا لیکن اس کے بعد ہماری جماعت نے ملک میں حکومت قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں کامیابی کے لئے میں نے سب سے بڑا اہم سبق کھیل سے سیکھا ہے کہ ہمت نہیں ہارنی چاہیے، میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا اور مضبوط ہوتا گیا اور ملک میں حکومت قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں جب خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی نے حکومت بنائی تو صوبہ دہشت گردی سے بری طرح متاثر تھا، 70 فیصد صنعتیں بند ہو چکی تھیں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشت گرد حملے ہو رہے تھے، ہم نے وہاں پر اپنے اتحادیوں سے مل کر حکومت بنائی اور اصلاحات پر کام کیا۔ ہم نے انسانی وسائل کے شعبہ کی ترقی پر سرمایہ کاری کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا ملک بھی ہے جس کے تدارک کے لئے ہم نے خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے، پولیس اور بیورو کریسی کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا، سیاحت کو فروغ دیا اور پانچ سال کے بعد غربت میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی، پاکستان کا وہ صوبہ جو کسی بھی سیاسی جماعت کو دوسرا موقع نہیں دیتا تھا، اس نے ہمیں دوبارہ منتخب کر کے موقع دیا اور ہم دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم اصلاحات کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، جس سے عوام متاثر ہوتے ہیں، اصلاحات کا عمل بھی سرجری کی طرح ہے کیونکہ مریض کے آپریشن سے اس کی بیماری کے خاتمہ کی کوشش کی جائے تو وہ پریشان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی اصلاحات کے ایجنڈے میں معاشی پالیسی کی بہتری کے تحت مالیاتی خسارے کو کم کرنا، قومی برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی چاہتے ہیں، پاکستان کا مالیاتی اور حسابات جاریہ کا خسارہ بہت زیادہ ہے جس کو کم کرنے کے لئے اصلاحات پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ محمد سے گزشتہ ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار کو پیسے کمانے کے لئے کاروبار کی اجازت دینی بہت ضروری ہے اور سرمایہ کاروں کو نفع کی اجازت ہونی چاہیے کیونکہ جب وہ دولت کمائیں گے تو زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار آئیں گے، حکومت کاروباری آسانیاں پیدا کرنے، ٹیکس کے قوانین میں تبدیلی لا رہی ہے جو ہماری اصلاحات کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے پروگرام پر عملدرآمد کے ذریعے ملک بہتری کی جانب گامزن ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں لیکن ہم سیاحت کے شعبہ سے دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم پیسے کما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں سیاحت کے شعبہ کا حجم 22 ارب ڈالر جبکہ ترکی میں 42 ارب ڈالر ہے جہاں پر سیاحت کے محدود مواقع دستیاب ہیں لیکن پاکستان میں دنیا کے بہترین پہاڑ، ساحل، قدیم تاریخی ورثہ، پشاور دنیا کا قدیم ترین شہر اور لاہور اور ملتان تاریخی شہر ہیں اسی طرح ملک میں مذہبی سیاحت کے حوالے سے سکھوں کے لئے مقدس مقامات بھی موجود ہیں جبکہ بدھ مت، گندھارا تہذیب کا قدیم تاریخی ورثہ، ہری پور میں 40 فٹ لمبے بدھا کا مجسمہ اور اسلامی تاریخ کے کئی مقامات موجود ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم سیاحت کے شعبہ کو فروغ دینے کے لئے ویزہ میں آسانیاں پیدا کر رہے ہیں اور 70 ممالک کے شہریوں کو ایئرپورٹ آمد پر ویزہ کی سہولت دے رہے ہیں، ہم ملک میں سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد کو دولت کمانی چاہیے جس سے ملک ترقی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 1970ء کی دہائی میں سوشلسٹ حکومت تھی اور ہر بڑے کاروبار کو قومیا لیا گیا لیکن ہم تمام چیزوں کو بدل رہے ہیں، اب ہم کہتے ہیں کہ ہم آپ کو پیسہ کمانے میں مدد دیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ مساوی ترقی ہو، امیر امیر تر اور غریب غریب تر نہ ہو بلکہ امیر اور غریب کا فرق کم ہو سکے، دولت کی تقسیم مساوی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں رسک لینا بہت اہم ہے، میں نے اپنی 20 سالہ عالمی کرکٹ کی تاریخ میں دیکھا ہے کہ جو رسک نہیں لیتے وہ کامیاب نہیں ہوتے، چانس لینے والا ہی کامیاب ہوتا ہے۔ اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس کے شرکائ، کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں سے کہا کہ اب وقت ہے ملک میں سرمایہ کاری کریں اور اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ واضح رہے کہ ورلڈ گورنمنٹ سمٹ میں 150 ممالک کے عالمی رہنمائوں، نمائندوں اور ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد عالمی رہنمائوں کے باہمی تجربات سے استفادہ ہے۔